اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
ملکیت کا اصول کلیتاً جس درجہ میں بھی اختیار کیا جائے اس سے زبردست تضادات پیدا ہوتے ہیں۔ غور کیجیے، لوگوں کی ذاتی ملکیتوں کو چھین کر انہیں اجتماعی ملکیت بنا دینے کے تصور کے پیچھے اصل منطق کیا ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اگر کوئی شخص زری فارم کا مالک ہے یا اس نے اپنی کوششوں سے کوئی کارخانہ قائم کیا ہے یا کسی کے پاس مشین اور دوسرے آلات پیداوار ہیں تو آخر کس بنا پر یہ چیزیں اس سے چھین لی جائیں گی۔ ذرائع پیداوار کو انفرادی ملکیت سے نکال کر اس کو اجتماعی ملکیت بنانے کا جو تصور ہے اس کے پیچھے نظریاتی بنیاد کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کا تصور اُس نظریۂ محنت کی پیدا وار ہے جو مارکس اور دوسرے فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔ انگریز ماہر اقتصادیات ڈیوڈ ریکارڈو (David Recardo) کا خیال تھا کہ "کسی تجارتی سامان کی قیمت اس مقدار محنت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے جو اس کی تیاری میں صرف کی گئی ہو"، ریکارڈو کے اس خیال کو لے کر مارکس نے وہ نظریہ قائم کیا جس کو قدر زائد (Surplus value) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مارکس کے اس نظریہ کے مطابق محنت ہی کے ذریعہ اشیاء میں قدر و قیمت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کسی چیز سے حاصل شدہ قیمت کو بھی صرف محنت کا حقہ ہونا چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں محنت ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے حق میں کسی چیز کی ملکیت کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔ جہاں ذاتی محنت کے بغیر آدمی کسی چیز کا مالک بن جائے وہ اس کا مالک نہیں بلکہ غاصب ہے جس کو چھین ہی لینا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشلز م صرف ذاتی محنت کی کمائی کو جائز سمجھتا ہے اس کے نزدیک دولت اور جائیداد کے ذریعہ حاصل کی ہوئی آمدنی جائز آمدنی نہیں ہے کیونکہ وہ حقوق مالکانہ کے طور پر حاصل کی جاتی ہے نہ کہ ذاتی محنت کے معاوضہ میں، اِس بنا پر سوشلزم کا خیال ہے کہ جو جائیدادیں ــــ یعنی وہ چیزیں جن پر دوسروں کی محنت سے کام لے کر دولت پیدا کی جاتی ہے لوگوں کے قبضہ میں ہیں وہ لوٹ کا مال ہیں۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جن کے ذریعہ کچھ لوگ بے کار بیٹھ کر دوسروں کی محنت کی کمائی ہڑپ کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے جائیداروں کو افراد کے قبضہ سے نکال کر، افراد کے نمائندہ ادارہ۔ اسٹیٹ ــــ کے قبضہ میں دے دینا چاہئے۔ تاکہ وہ پیدا وار دولت کے نظام کو صحیح راستہ پر لگائے تاکہ استحصال کا نظام ختم کیا جا سکے۔ گویا سوشلست فلسفہ کے مطابق جب کسی سے کوئی جائیداد یا ذریعہ پیدائش کو چھینا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ کسی سے اس کی ملکیت چھین لی گئی ہے بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ آدمی سے وہ چیز چھین لی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ دوسروں کی کمائی کو نا جائز طور پر ہڑپ کر رہا تھا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس سے اجتماعی تنظیم کے لئے افراد کی ملکیتوں کو چھینے کے حق میں دلیل حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس منطق کو اگر قبول کر لیا جائے تو یہ اسلام کے نظریۂ ملکیت سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ پھر کسی ایسی جائیداد پر کسی کا شخصی قبضہ جائز نہیں ہے جس پر وہ خود کام کر کے پیداوار حاصل نہ کرتا ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader