اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ دوسروں کی محنت استعمال کرکے نفع کما تاہو۔ اس طرح اسلام کا پورا قانون دراشت غلط ہو جاتا ہے کیونکہ کسی محنت کے بغیر آدمی کو جائیداد کا مالک قرار دیتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کھیت کو کھیتی کو بتائی پر دینا غلط ہے کیونکہ اس صورت میں کسی ذاتی محنت کے بغیر آدمی ایک کھیت کی پیداوار میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مکان، سواری اور دوسری چیزوں کو کرایہ پر اٹھانا غلط ہے کیونکہ اس عمل سے مکان یا سواری وغیرہ کا مالک اپنے لئے جو معاوضہ حاصل کرتا ہے اس میں اس کی ذاتی محنت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مضاربت کے اصول پر کسی کو روپیہ دے کر اس کی محنت کی کمائی میں شریک ہونا غلط ہے کیونکہ یہاں بھی محنت صرف ایک کی ہے نہ کہ دونوں کی۔ اس نظریہ کے مطابق زکوٰۃ کا قانون ایک غلط بنیاد پر قائم ہے کیونکہ بہت سی صورتوں میں اس کا انطباق جائیدادوں کی آمدنی پر ہوتا ہے نہ کہ صرف ذاتی محنت کی کمائی سے پس انداز کی ہوئی رقموں پر۔ غرض یہ نظریہ محنت جو یہ بتانا ہے کہ کسی چیز کی آمدنی پر ملکیت کا استحقاق کب پیدا ہوتا ہے یہ اسلام کے تصور ملکیت اور اس کے معاشی قوانین کے پورے ڈھانچے سے ٹکراتا ہے۔ اگر اس نظریہ کو تسلیم کرکے اس سے ملکیتوں کے سلب کرنے پر استدلال کیا جائے تو یہ خود اسلام کی تنسیخ ہے۔ یہ "اسلام کے معاشی مقاصد" حاصل کرنے کے نام پر خود اسلام کے معاشی نظریہ کو ترک کر دینا ہے۔ حال میں ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے "مسئلہ زمین اور اسلام"۔ مصنف نے اس کتاب میں زرعی اصلاح کے لئے کچھ تجویزیں پیش کی ہیں۔ ان کی پہلی تجویز یہ ہے کہ زمین کی ملکیت بتدریج کاشتکاریں منتقل کی جائے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ" ہماری زرعی اصلاح کی پہلی بنیادی اینٹ یہ ہے کہ کوئی زمین کا ٹکڑا کسی ایسے آدمی کو کوئی فائدہ نہ پہنچائے جس پر وہ خود محنت نہیں کرتا۔ گویا زمین کی فصل کلیتاً اس کو ملے جو زمین پر خود کام کرتا ہے۔ زرعی اصلاح کا یہ پہلا "کم سے کم" جہاں سے سوشلسٹ اصلاح کی ابتدا ہوتی ہے وہ ایک ایسا اصول ہے جو اسلام کے پورے معاشی ڈھانچہ کو گرا دیتا ہے۔ "محنت" کو معاشی حقوق کی بنیاد قرار دینا بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر یہ فطرت اور اسلام دونوں کے خلاف ہے۔ محنت کی ساری اہمیت تسلیم کرنے کے باوجود محنت کا یہ نظریہ تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر کام میں جسم اور دماغ دونوں قسم کی محنت لگانی پڑتی ہے۔ مزید یہ کہ پیدائشی طور پر ایک انسان اور دوسرے انسان میں صلاحیت کا فرق ہوتا ہے۔ کسی شخص کے اندر جسمانی طاقت زیادہ ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر دماغی طاقت زیادہ۔ دونوں قسم کے انسانوں کے ملنے سے تمدن کا نظام چلتا ہے۔ اشتراکی نظریہ اس فطرت سے لڑکر بنایا گیا ہے۔ اسلام کا معاشی نظام اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرنے کی بنیاد پر بنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader