مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم سوشلسٹوں کے دلائل اجتماعی ملکیت کے طریقہ کو عین اسلامی طریقہ ثابت کرنے کے لئے جو دلیلیں دی گئی ہیں وہ عموماً اس قدر بے معنی ہیں کہ ان پر گفتگو کرنا بھی اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے۔ اس قسم کے دلائل کا مطالعہ کرنے کے لئے میں نے حال میں جناب چودھری غلام احمد پرویز کی کتاب ”نظامِ ربوبیت“ حاصل کی تھی جو موصوف کی شاہ کار تصنیف کہی جاتی ہے۔ پرویز صاحب اگرچہ اشتراکیت کے نام پر اجتماعی نظام پیدا وار کے حامی نہیں۔ انھوں نے سرمایہ داری کو ”جذام“ اور کمیونزم کو ”سرسام“ کہا ہے۔ ”اسلامی اشتراکیت“ کی اصطلاح ان کے نزدیک ایسی ہی ہے جیسی ”قرآنی دہریت“۔ مگر خود اسلام کے معاشی نظام کی جو تشریح وہ کرتے ہیں، اس میں اور اشتراکیت میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ان کا ”قرآنی معاشرہ“ بعینہ اسی قسم کا ایک معاشرہ ہے جو اشتراکیت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کتاب کو خاص طور پر دیکھا، کیونکہ میرا خیال تھا کہ کم از کم اپنے موضوع پر وہ ایک مکمل کتاب ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کتاب کو لکھنے میں پرویز صاحب نے اپنا پورا زورِ قلم صرف کر دیا ہے۔ مگر دیکھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پرویز صاحب کی یہ کتاب اگر ان کا شاہ کار ہے تو اپنے موضوع کے اعتبار سے نہیں بلکہ وہ دراصل ان کے اس مخصوص طرزِ استدلال کا شاہ کار ہے جو مختلف مسائل کے سلسلہ میں وہ پیش فرماتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں قرآن کی آیتوں کا مطلب بیان کرنے میں بالکل اسی قسم کی مہارت کا ثبوت دیا گیا ہے جیسا کہ ایک صاحب کے سامنے میرا نہیں کا شعر پڑھا گیا : ؎ ۱۔ افراد سے ان کی ملکیتیں چھین کر حکومت کے ذریعہ ان کا یکجائی انتظام کرنے کے نظریہ کو اجتماعی ملکیت یا سماجی ملکیت کہا جاتا ہے مگر اس نظریہ کا یہ نام محض ایک قانونی اور اصطلاحی فریب ہے۔ اس کو حکومتی طبقہ کی ملکیت کہنا چاہئے ، نہ کہ سارے سماج کی ملکیت نظامِ ربوبیت، صفحہ ۱۹۔ ۲۸

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader