مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
سب خوشہ رُبا ہیں میرے خرمن کے جہاں میں انھوں نے اس کا مطلب یہ بتایا کہ ” میرے آگے سب لومڑی کی دُم ہیں“۔ اس مصرع میں ”رُبا“ ان کے نزدیک لومڑی کا ہم معنی فارسی لفظ ”روباہ“ کا مخفف تھا اور خوشہ سے مراد لومڑی کی گچھے دار دُم تھی۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے استدلال کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا۔ اسلام کے اندر اجتماعی ملکیت ثابت کرنے کے لئے دوسرے لوگ جو دلیلیں دیتے ہیں ان کا انداز بھی عموماً اسی قسم کا ہے۔ تاہم استدلالات کے اس مجموعہ میں بعض دلیلیں جو کسی قدر وزنی معلوم ہو سکتی ہیں، ہم یہاں ان کے بارے میں مختصر گفتگو کریں گے۔ یہ دلیلیں جو سوشلزم کے حق میں سوشلسٹ ذہن رکھنے والے مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں وہ عموماً تین قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کی عمارت اسلام کے بنیادی افکار و تصورات پر قائم کی گئی ہے ۔ دوسری وہ دلیلیں ہیں جو اسلام کے فلسفہ شریعت سے اخذ کی گئی ہیں۔ اور تیسری قسم کی دلیلیں وہ ہیں جو تاریخ اسلام کے نظائر سے کی جاتی ہیں۔ ہم ان تینوں قسم کی دلیلوں پر ترتیب وار گفتگو کریں گے۔ پہلا استدلال اسلام کے اساسی تصورات سے جو استدلال کیا جاتا ہے پہلے اس کو لیجیے۔ کہا جاتا ہے کہ عملی زندگی کے کسی شعبہ میں اسلام جو رویہ اختیار کرتا ہے وہ دراصل زندگی کے بارہ میں اس کے بنیادی تصورات ہی کا عکس ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کی ساری تفصیلات اور اس کے تمام فقہی اور قانونی ضابطے دراصل حیات، کائنات اور انسان کے بارے میں اس بنیادی فلسفہ کے قدرتی اور منطقی نتائج کے طور پر اُبھرے ہیں جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ اس لئے کسی مخصوص قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ اسلام کے بنیادی فلسفہ سے وہ مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان حضرات کا دعویٰ ہے کہ اس اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا فلسفہ نہ صرف یہ کہ اجتماعی ملکیت کے خلاف نہیں معلوم ہوتا بلکہ اس کا یہ صریح تقاضا نظر آتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔ اس فلسفہ کے دو خاص جز حسب ذیل ہیں: ۱۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے پیدا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے۔ یہاں کوئی بھی چیز اصلاً انسان کی ملک نہیں، انسان کے پاس جو اموال و املاک ہیں وہ دراصل خدا کی طرف سے امانت کے طور پر عارضی تصرف کے لئے دیئے گئے ہیں۔ اس امانت کا مقصد انسان کو اس کا مالک بنانا نہیں بلکہ اس بات کا امتحان لینا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے یا نہیں۔ ہر امانت کی طرح اس امانت پر بھی انسان کا قبضہ عارضی ہے نہ کہ دائمی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader