Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مسلم سوشلستوں کے دلائل

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۔ دوسری چیز " وحدت بنی آدم " کا تصور ہے۔ یعنی خدا کے نزدیک مختلف انسان الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سب کی فلاح وسعادت کے اصول اور سب کے حقیقی مفادات یکساں ہیں۔ اس لئے ان کے درمیان فطری رشتہ اخوت و تعاون اور مواسات دیہی خواہی کا ہے نہ کہ کش مکش اور نزاع کا۔ اگر کسی مرحلہ میں ملکیت کا قانون اسلام کے تصور انسانی سے ٹکرا جائے تو اس وقت تصور انسانی کو باقی رکھنے کے لئے ذاتی ملکیت کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسلام کے ان تصورات کا تقاضا ہے کہ افراد انسانی کے لئے املاک کی کسی مطلق اور مقدس فہرست کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ کیونکہ ساری ملکیتیں خدا کی ہیں نہ کہ کسی انسان کی۔ یہ لکیں انسان کو اصل مالک کی طرف سے بطور امانت دی گئی ہیں۔ اس لئے کسی انسان کا ان پر ذاتی حق نہیں۔ جو حق ہے وہ ان شرائط کی تکمیل کے ساتھ مشروط ہے جس کے لئے اصل مالک نے یہ ملکیتیں عطا کی ہیں۔ اگر تصرف کا حق ادا نہ ہو سکے تو مالک کو اختیار ہے کہ اسی طرح اپنی املاک کو اس سے چھین لے جس طرح اس نے پہلے عطا کیا تھا۔ اس اصول کا اطلاق مال واملاک رکھنے اور مالکانہ تصرفات کرنے اور دوسرے تمام حقوق پر یکساں حیثیت سے عائد ہوتا ہے۔ ملکیت کی یہ نوعیت اور وحدت بنی آدم کا اسلامی تصور تقاضا کرتا ہے کہ خدا نے انسانوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ چند افراد یا کسی ایک طبقہ کی میراث بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان سے تمام انسانوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے۔ بنی آدم ایک خاندان ہیں اور کائنات کی جن اشیاء اور قوتوں کو اس پورے خاندان کی تحویل میں دیا گیا ہے ۔ ان سے استفادہ کرنے میں سب کو ایک خاندان کے افراد کی طرح کا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے ۔ جس طرح ایک خاندان کے اندر تمام چیزیں مشترک ہوتی ہیں اسی طرح اسلام کے تصور انسان کا تقاضا ہے کہ سارے بنی آدم کے لئے چیزوں کا اشتراک تسلیم کیا جائے اور کسی کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ کچھ چیزوں پر وہ مستقل قبضہ کر کے دوسرے لوگوں کو اس سے محروم کر دے۔ اسی لئے قرآن مال واملاک کی کسی ایسی تقسیم کو گوارہ نہیں کرتا جو انسانوں کے ایسے طبقہ کو مقصد زندگی کے ناگزیر ذرائع سے محروم کر دے۔ یہ ہے ان دلائل کا خلاصہ جو اسلام میں اجتماعی ملکیت ثابت کرنے کے لئے نظریاتی پس منظر کے طور پر بتلائی گئی ہیں۔ اس دلیل کا پہلا جز یہ ہے کہ انسان کائنات کے اندر کسی چیز کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کائنات کے اندر انسان کوئی مالکانہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ملکیت کی کوئی ایسی فہرست نہیں بنائی جا سکتی جو " مطلق " اور " مقدس " ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ حیثیت کس کے مقابلہ میں ہے۔ خدا کے مقابلہ میں یا بندوں کے مقابلہ میں ۔ خدا کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت یقیناً صرف مکلف اور ذمہ دار ہستی کی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page