مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
کے حقدار کی۔ مگر انسان کے مقابلے میں یقیناً وہ حقدار ہے اور ملکیت کی مقدس فہرست رکھتا ہے۔ اللہ مالک حقیقی نے خود ہی ایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں بہت سے حقوق دئے ہیں اور ان کو محترم ٹھہرایا ہے جن کو اذن الہی کے بغیر ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقوق خدا نے دئے ہیں اور وہی اپنے حق میں انہیں واپس لے سکتا ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ اپنے خودساختہ فلسفہ کی بنا پر لوگوں سے ان کی جائز ملکیتیں چھین لے اور پھر یا تو خود ان پر قابض ہو جائے یا کچھ دوسرے لوگوں کے حوالہ کر دے۔ اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست خدا کی نائب ہے، وہ خدا کی زمین پر خدا کی خلافت کی تنظیمی شکل ہے، اس بنا پر اس کو بندگانِ خدا کی تمام املاک پر کچھ خصوصی اختیارات حاصل ہیں دوسرے لفظوں میں نائب ہونے کی وجہ سے اس کو وہی حقوق حاصل ہیں جو مالک کے ہوتے ہیں۔ اس مخصوص حیثیت کی بنا پر اسلامی ریاست کو افراد کے حقوق میں مداخلت کرنے کا پورا حق ہے۔ جس طرح مالک اپنے دئے ہوئے حق کو منسوخ کر سکتا ہے اسی طرح اسلامی حکومت کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر ضرورت سمجھے تو خدا کے دئے ہوئے ملکیتی حقوق کو ساقط کر دے۔ ان اختیارات کا منشاء یہ ہے کہ یہ املاک مفید ہی اغراض کے لئے استعمال کی جائیں اور فی الجملہ ان سے وہی کام لیا جائے جو مقصد تخلیق سے ہم آہنگ ہو۔ یہ وہی پرانی دلیل ہے جو اس سے پہلے ڈاکٹر بشپ کی حمایت میں پیش کی جاتی رہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ کمزور دلیل اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ خدا کے قانون کے تحت زمین پر جو اسلامی ریاست منظم ہوتی ہے اس کا کام یہ نہیں ہے کہ اپنے خودساختہ نظریات کے تحت ان حقوق کو منسوخ کر دے جو خود اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو دئے ہیں، اس کے برعکس اس کا کام یہ ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ خدا کے دئے ہوئے حقوق لوگوں کو مل رہے ہیں یا نہیں ۔ وہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کو نافذ کرنے والی ہوتی ہے نہ کہ اس کو معطل کرنے والی ۔ کسی حکومت کے اسلامی حکومت ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ زمین پر خدا کی قائم مقام ہوگئی ہے اور اس کو مطلق اختیار حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔ بلکہ وہ تو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ زمین پر خدا کے قوانین کی پابندی ہوگی اور ان کو توڑا نہیں جائے گا۔ جو اسلامی ریاست خدا کے مقرر کئے ہوئے حدود سے تجاوز کرے اور انسانوں سے وہ حقوق سلب کرنے لگے جو خدا نے خود اپنی شریعت کے ذریعہ انسانوں کو دئے ہیں وہ اپنے مقصدِ وجود کے خلاف کام کرتی ہے۔ ایسی حکومت خدا کی نائب نہیں، خدا کی باغی ہے ۔ اس کی ساری کارروائیاں غیر قانونی ہیں اور اس کے افراد خدا کی عدالت میں سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ایسی حکومت لینن اور سٹالن کی نائب ہو تو ہو، خدا کی نائب ہرگز نہیں ہے۔ اس دلیل کا دوسرا جز، وحدت بنی آدم کا نظریہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی ساری مخلوق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader