Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مسلم سوشلستوں کے دلائل

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بڑے خاندان کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک خاندان کے اندر جس طرح سب کچھ مشترک ہوتا ہے اسی طرح پوری انسانیت میں سب کچھ یا ان کا بڑا حصہ ہر ایک کے درمیان مشترک ہونا چاہئے۔ وحدت بنی آدم کی بات تو اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہے مگر اس سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص قرآن کی یہ آیت پڑھے: خلق لكم من انفسكم ازواجا اے انسانو! خدا نے تمہارے لئے تم ہی میں سے تمہارے جوڑے لتسكنوا اليها۔ (روم - ۲۱) (صنفِ مقابل) پیدا کئے ہیں تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس کی تفسیر پر کرے کہ اس میں ’’مشترک شادی‘‘ کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی تمام عورتیں تمام مردوں کے لئے اور تمام مرد تمام عورتوں کے لئے۔ اگر استدلال کا یہ طریقہ اختیار کیا جائے تو دنیا کی برباد ثابت کی جاسکتی ہے ۔ وحدت بنی آدم کا یہ مطلب تو ضرور ہے کہ انسانوں کا باہمی تعلق صدرَجی، مواسات اور ایثار و تعاون پر مبنی ہونا چاہئے نہ کہ خود غرضی، کش مکش اور نزاع پر۔ مگر اس سے یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ سامانِ حیات پر لوگوں کا الگ الگ شخص نہ ہو، بلکہ اموال و املاک سب کی مشترک ملکیت میں دیدئے جائیں۔ اگر بنی آدم کو ایک بڑا خاندان ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان ملکیتوں کا اشتراک ہونا چاہئے تو یہ بات اس بڑے خاندان سے پہلے چھوٹے چھوٹے خاندانوں پر چسپاں ہوتی ہے جن کے مختلف افراد کے لئے شریعت نے الگ الگ حصے مقرر کئے ہیں۔ پھر وحدت بنی آدم کی اس تشریح کا مطلب تو یہ ہوا کہ اسلام کا قانون وراثت اس کے تصورِ انسان کے خلاف ہے۔ جس طرح ’’بڑے خاندان‘‘ کے حق میں آپ ملکیتوں کی علیحدگی صحیح نہیں سمجھتے اسی طرح چھوٹے خاندان میں بھی یہ اصول صحیح نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک کا الگ الگ حصہ ہو اور خاندان کی تمام املاک اور ان کا منافع ہر ایک کے نام اس کے حصہ کے بقدر تقسیم کر کے دیا جائے۔ گو یا نعوذ باﷲ اسلام کے تصور انسان کا تقاضا جتنا یہ حضرات سمجھ رہے ہیں، اتنا بھی اﷲ تعالیٰ اس کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے معاشرہ کے لئے جو اجتماعی تصور دیا تھا، معاشرہ کی ابتدائی وحدت (خاندان) کے حقوق و فرائض متعین کرتے وقت خود ہی اس کو بھول گیا۔ وحدت بنی آدم کا مطلب اگر یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ’’وہ چند افراد یا کسی ایک طبقہ کی میراث بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان سے تمام انسانوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے‘‘ دوسرے لفظوں میں اشیا پر افراد کا ملکیتی تشخص نہ ہو، بلکہ خدا کی نعمتیں اس کے تمام بندوں کے لئے عام ہوں۔ اگر وحدت بنی آدم کا مطلب یہ ہے تو اس فلسفہ کے مطابق اجتماعی ملکیت کا مجوزہ نظام بھی غلط ہے کیونکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page