مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
اس نظام میں بھی تصرف کا اختیار عملاً ایک ہی طبقہ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اجتماعی ملکیت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سب کو اجازتِ عام حاصل ہوگی، جو چاہے اپنی مرضی کے مطابق املاک میں تصرف کرے، اجتماعی ملکیت در حقیقت حکومتی ملکیت ہے جس میں حکمراں طبقہ املاک کا متولی بن جاتا ہے۔ جس طرح ملکیتی نظام میں مالکانِ جائیداد کو اس کے غیر مالکوں کے مقابلہ میں تصرف کا خصوصی اختیار ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح اجتماعی نظام میں حکمراں طبقہ کو غیر حکمرانوں کے مقابلہ میں تصرف کا خصوصی اختیار ہو جاتا ہے، وہ دیں تو دوسروں کو چیزیں ملیں گی، وہ نہ دیں تو خود سے کوئی شخص نہیں لے سکتا۔ اگر وحدتِ بنی آدم کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں سے تمام لوگ بے روک ٹوک استفادہ کر سکیں تو اس کی صحیح شکل یہ ہے کہ تمام چیزیں بالکل کھلی چھوڑ دی جائیں۔ جس کسی کو بھی جب اور جہاں جس چیز کی ضرورت ہو وہ ہوا اور پانی کی طرح اس کو حاصل کر سکے۔ گویا نہ بنی ملکیت ہو اور نہ حکومتی ملکیت، بلکہ انسانی زندگی میں جنگل کا طریقہ جاری کر دیا جائے جہاں ہر جانور ہر چیز سے استفادہ کر سکتا ہے۔ کسی کو کسی چیز پر ملکیتی یا انتظامی اختیار نہیں ہوتا، وحدت بنی آدم کی یہ منطق نجی ملکیت کا نظام توڑ کر اس کو حکومتی طبقہ کی ملکیت بنانے کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہونا چاہئے جس میں سب کو اجازتِ عام حاصل ہو۔ نہ مالک اور غیر مالک کا فرق ہو اور نہ حاکم اور محکوم کی تفریق باقی رہے۔ گویا وہ نظام جس کے علم بردار بعض انارک سٹ ہیں۔ کیا انسانی معاشرہ میں اس طرح کا نظام قائم کرنا ممکن ہے اور کیا اس دلیل سے اسلام میں سوشلزم کی گنجائش ثابت کرنے والے حضرات اس کی تائید کریں گے۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ مشترک ہو، بلکہ کچھ ابتدائی ضروریات کی چیزیں انفرادی ملکیت میں رکھ کر بقیہ چیزوں کو مشترک ملکیت میں دے دیا جائے، جیسا کہ موجودہ اشتراکی ملکوں میں بالفعل پایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کچھ چیزوں کا استثناء کہاں سے نکل آیا۔ وحدتِ بنی آدم کا جو تصور آپ بتا رہے ہیں اس کے مطابق مکمل تعاون کی شکل تو یہی ہو سکتی ہے کہ کچھ نہیں، بلکہ سب کچھ مشترک ہو، اموال واملاک کی جس مقدار پر بھی آپ اس تصویر اشتراک کو چسپاں نہ کریں گے اسی کے بقدر آپ کے نظریہ میں تضاد واقع ہوگا۔ البتہ اگر وحدت بنی آدم کا مطلب اموال کا اشتراک نہ لیا جائے بلکہ نظریاتی اور انسانی اشتراک لیا جائے، جیسا کہ فی الواقع ہے، تو کسی مقام پر بھی کوئی تضاد واقع نہیں ہوتا۔ ہر دائرہ کے اندر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مختلف انسانوں کو اپنے مفاد کے ساتھ دوسروں کے مفاد کا خیال رکھنا چاہئے۔ اور ٹکراؤ کی نوبت نہ آنے دینی چاہئے۔ اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ افراد اس قسم کی کوئی حرکت نہ کرنے پائیں۔ جو شخص یا گروہ ایسا کوئی اقدام کرتا ہو اسے اس کو فوراً روگ کماپنی حد کے اندر واپس جانے پر مجبور کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader