مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرا استدلال ان حضرات کے استدلال کی دوسری بنیاد فلسفہ شریعت ہے یعنی وہ مقاصد جن کے لئے اسلام نے اپنے احکام وضع کئے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لئے قانونی ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسلام کے احکام دو ہدایت دو قسموں پر مشتمل ہیں ایک قانون اور دوسرے اخلاق۔ قانون کے دائرہ میں وہ احکام آتے ہیں جو شریعت نے فرض قرار دئے ہیں اور اخلاق سے مراد وہ ہدایات ہیں جو لازم نہیں قرار دی گئی ہیں بلکہ ان کے سلسلہ میں ترغیب و تلقین پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں قسم کے احکام اگر چہ بظاہر مختلف معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ سب کو لازم نہیں قرار دیا گیا ہے مگر اس حیثیت سے دونوں یکساں ہیں کہ وہ سب کے سب مطلوب ہیں اور سب کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کی سند اور خود انسانی مصالح کا تقاضا موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لازم اور غیر لازم کی یہ تقسیم اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ دائمی نہیں ہے، بلکہ قانونی اور اختیاری حلقوں کی سرحدیں زمانہ حالات اور سماج کے اخلاقی معیار کے ساتھ ساتھ تبدیل کی جاسکتی ہیں۔ اسلام کی قانونی ہدایت کی طرح اس کی اخلاقی ہدایات کا تعلق بھی اہم اجتماعی امور سے ہے جن کو بہ ہر حال انجام پانا چاہئے، کیونکہ ان کی تکمیل سے پورے معاشرے کے ناگزیر مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کو ہر فرد پر لازم اس لئے نہیں کیا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر فرد میں ان کی بجا آوری کی استعداد و قوت پائی جائے۔ لیکن اگر سارے ہی افراد ان ہدایات کو ترک کردیں تو شریعت کے بعض ایسے مقاصد متاثر ہوتے ہیں جو کسی حال میں نظر انداز نہیں کئے جاسکتے۔ اسی لئے خام غفلت کی صورت میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ان ہدایات کو قانوناً نافذ کیا جائے ۔ اجتماعی تنظیم کے لئے سلب ملکیت کے حق میں یہ استدلال بڑے زور شور کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔ آخر جس معاشرہ کے ”سارے ہی افراد“ کا یہ حال ہو جائے کہ وہ اپنے فرائض بھول جائیں اور مفاد پرستی ان پر اس قدر غالب آجائے کہ اپنے فائدے کے لئے دوسروں کے حقوق پامال کرنا شروع کردیں، ایسے معاشرہ میں وہ لوگ کہاں سے آئیں گے جن کو سارے ذرائع دو وسائل یا ان کا بیشتر حصہ اس امید میں سونپا جا سکے کہ وہ نہایت ایمان داری کے ساتھ دوسروں کا حق پہنچاتے رہیں گے۔ معیشت کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے لئے وزرا، اور افسران سے لے کر ہزاروں، لاکھوں اہل کاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو پیدا وار اور تقسیم کے مختلف مراحل کا چارج لے سکیں اور عام پبلک تک ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک پہنچاتے رہیں۔ پھر جس معاشرہ میں عام غفلت طاری ہو جائے وہاں صالحین کی فوج کیا مریخ سے بلائی جائے گی، جب معاشرہ کا ایک ایک فرد بگڑ چکا ہو اور نجی مالک کی حیثیت سے اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader