Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مسلم سوشلستوں کے دلائل

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

فرائض انجام دے رہا ہو تو اس معاشرے کے افراد سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ وزیر صنعت اور رائشنگ انسپکٹر بن کر اس کام کو ٹھیک طریقہ سے انجام دینے لگیں گے جس کو وہ تاجر اور زمین دار کی حیثیت سے انجام نہ دے سکے۔ پہلی شکل میں تو آدمی کے پاس صرف ملکیت ہوتی ہے اور دوسری شکل میں ملکیت اور اختیار دونوں اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ پھر جس معاشرے کے لوگ ایک حیثیت کی ذمہ داری سنبھال نہ سکیں اسی معاشرے سے لے ہوئے افراد سے یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ دو نیتوں کا مالک بننے کے بعد وہ بالکل بدل جائیں گے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے لگیں گے۔ جس معاشرے کی عام اخلاقی حالت“ بگڑ چکی ہو، ایسے معاشرے کے افراد کو عام حالات سے زیادہ اختیار دینا ان کو ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ تدبیر حالات کو اور زیادہ بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے نہ کہ سدھار اور اصلاح کی طرف۔ یہی وہ دانش مندانہ تدبیر ہے جس کو یہ حضرات خدا کی شریعت میں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ جن ہدایات کو شارع حق جل شانہ نے ترغیبی حمایت کا درجہ دیا ہے، آپ کو کیا حق ہے کہ انھیں قانون کا درجہ دے دیں اور بالفرض اگر کسی جزئیہ سے آپ اس کی نظیر ڈھونڈ نکالیں کہ مخصوص ہنگامی حالات میں کسی اخلاقی فضیلت کو قانونی لزوم کا درجہ دیا گیا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ افراد کی ملکیتیں بھی چھینی جاسکتی ہیں۔ اسلام نے پڑوسیوں کا حق ادا کرنے پر بہت زور دیا ہے، غریبوں اور محتاجوں کی دستگیری کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے، یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کو بہت بڑے ثواب کا کام بتایا ہے، اس طرح کی اور بہت سی چیزیں ہیں جن کو اسلام نے لازم نہیں قرار دیا ہے، البتہ مختلف طریقوں سے ان کی طرف ترغیب دلائی ہے اور ان پر عمل کرنے والے کے لئے بہت بڑا انعام پانے کی خوش خبری دی ہے۔ یہ ہدایات دی گئی ہیں یقیناً یہ محض اس لئے نہیں ہیں کہ ان پر عمل کرنے والے افراد کچھ ثواب کا استحقاق حاصل کرلیں بلکہ ان کے اندر دوسری نہایت اہم مصلحت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے معاشرے کے مسائل حل ہوتے ہیں اور مجموعی حیثیت سے پورے معاشرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی مخصوص ہنگامی حالت کے پیش آنے کی بنا پر آپ یہ طے کریں گے ان اخلاقی ہدایات کو قانون کا درجہ دیا جانا چاہئے تو سوال یہ ہے کہ آپ کس چیز کو قانون کا درجہ دیں گے۔ انھیں اخلاقی ہدایات کو یا کسی اور چیز کو۔ آپ کے استدلال کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مخصوص حالات میں خوش حال افراد کو اس کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے محتاج بھائیوں کی مدد کریں، یا ریاست ان کے اوپر ٹیکس لگا کر ایسی رقمیں حاصل کر سکتی ہے جس کو دوسرے ضرورت مند افراد تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page