مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچایا جاسکے۔ ہر حالت میں صرف اسی چیز کو قانون کا درجہ دیا جا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عام حالات میں اختیاری اخلاق کا درجہ دیا ہے۔ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اخلاقی ہدایات کی خلاف ورزی کو ایسا جرم قرار دیں جو قابل دست اندازی پولیس ہو، جس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جاسکتی ہو، جس پر عمل نہ کرنے والے کو جیل بھیجا جاسکتا ہو یا اس پر جرمانہ لگایا جا سکتا ہو۔ آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں مگر اس سے آخری بات کیسے نکلتی ہے کہ لوگوں سے پیدائش دولت کے ذرائع چھین لو اور اس کا یکجائی انتظام کرو۔ اگر کسی کے ذمہ آپ کا روپیہ باقی ہو اور آپ مانگنے جائیں تو وہ نہ دے۔ ایسی صورت میں آپ کو یہ حق تو ہے کہ پولیس اور عدالت کی مدد سے اپنا روپیہ برآمد کرنے کی کوشش کریں، مگر کیا آپ کو یہ حق بھی ہے کہ اس آدمی ہی کو قتل کر ڈالیں ۔ یا اس کی پوری جائیداد کو آگ لگا دیں۔ ایک مثال سے اس استدلال کی مضحکہ خیز نوعیت اور واضح ہو جائے گی۔ اسلام کے جو ترغیبی احکام ہیں ان کا تعلق صرف معاشی زندگی سے نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے ہے۔ مثلاً نفل نمازیں اور نفل روزے بھی ترغیبی احکام میں شامل ہیں۔ پھر اگر کسی معاشرہ میں اس کے تمام افراد نفل عبادات کو ترک کر دیں اور اس کی ضرورت محسوس ہو کہ لوگوں کو نفل عبادات پر عمل کرنا چاہئے ورنہ تقویٰ اور اخلاق کا معیار بہت گر جائے گا۔ ایسی حالت میں اسلامی ریاست کیا فرض انجام دے گی ۔ ایک شکل یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اکسائے اور ایسے محتسب مقرر کرے جو اس کی نگرانی کرتے پھریں کہ افراد اس پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں ۔ اور دوسری شکل یہ ہے کہ افراد کے اس حق کو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے کہ وہ نفل عبادات بھی کر سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا شولسٹ منطق کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہی دوسرا عمل کیا جائے ۔ یعنی نفل عبادات کو سماجی ملکیت قرار دے کر اس پر ریاست کی اجارہ داری قائم کر دی جائے۔ افراد کو بذاتِ خود نفل عبادات کی ادائیگی کی اجازت نہ ہو حکومت "سماجی اہتمام" کے ذریعہ ان کی ادائیگی کرائے اد۔ پھر اس کے ثواب کو راشننگ سکیم کے تحت لوگوں کے درمیان تقسیم کر دے۔ اس سلسلہ میں فرض کفایہ سے بھی دلیل دی جاتی ہے۔ فرض کفایہ وہ اعمال ہیں جو افراد کے لئے اخلاقی نوعیت رکھتے ہیں مگر پوری جماعت کے لئے وہ فرض ہیں۔ اگر کچھ لوگ اسے انجام دیں تو سب لوگوں کے سر سے ذمہ داری ساقط ہو جائے گی ۔ لیکن اگر کوئی بھی انجام نہ دے تو تمام صاحب استطاعت افراد کے لئے یہ اخلاقی ذمہ داری ایک فرض عین کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص اس کو پورا نہ کرے تو ریاست کی مشین حرکت میں آتی ہے اور اس کی بجآ آوری کے لئے مناسب اقدامات کرتی ہے۔ اس فرض کفایہ کی فہرست میں بہت سے دینی امور کے ساتھ وہ دنیوی امور بھی شامل ہیں جو سوسائٹی کی معاشی زندگی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader