مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
قيام کے لئے ضروری ہیں۔ اس لئے اگر ریاست یہ دیکھے کہ معاشی زندگی سے متعلق فرض کفایہ کے مقاصد پورے نہیں ہو رہے ہیں تو اس کو حق ہے کہ افراد کی مِلکیتوں پر قبضہ کرلے اور اجتماعی مفاد کے مطابق ان کا مناسب انتظام کرے ۔ اس دلیل کا جواب بھی یہی ہے جو اوپر ہم قانون اور اخلاق کی بحث کے سلسلہ میں لکھ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرہ کا یہ حال ہو جائے کہ اس میں بار بار ایسے مواقع آئیں جن میں چند افراد کے حصہ لینے سے بھی پورے معاشرہ کا کام بن جاتا ہے ۔ اور ان افراد کو اپنے ایک ذاتی عمل کے نتیجہ میں سارے معاشرہ کا ثواب ملتا ہے۔ مگر وہاں چند افراد بھی ایسے نہ ہوں جو نیکی کے اتنے بڑے کام کا موقع اپنے سامنے دیکھیں تو اس کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ، ایسے بگڑے ہوئے معاشرہ کی نمائندہ حکومت اور ایسے معاشرہ سے لئے ہوئے پبلک حکام سے کب یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے ہاتھ میں کوئی چارج دے دیا جائے گا تو اچانک وہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا فرض انجام دینے لگیں گے ۔ پھر دوسرا سوال یہاں بھی پیدا ہوتا ہے جو اوپر ہم نے نقل کیا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ ” ناگزیر اجتماعی مقاصد اگر اخلاق کے ذریعہ حاصل نہ ہوسکیں تو انہیں قانون کے ذریعہ حاصل کرنا ضروری ہو جاتا ہے“ مگر اس سے آخر اجتماعی ملکیت کے حق میں کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فرض کفایہ ادا نہ ہو رہا ہو اور حکومت کو اس کی ادائیگی کے لئے حرکت کرنا پڑے تو اس کی حرکت کس سمت میں ہوگی اور وہ کیا اقدامات کرے گی ۔ وہ یہی تو کرے گی کہ جس معاشرہ پر کوئی فرض کفایہ عائد ہوتا ہے اس کے صاحبِ استعداد افراد سے مطالبہ کرے گی کہ وہ اس کو ادا کریں اور بالجبران سے وہ کام کرائے گی جس کو بالرضا انہوں نے انجام نہیں دیا تھا ۔ ایسے حالات میں اس کا کام صرف یہ ہو سکتا ہے کہ کسی ہنگامی وقفہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے ایسے حکم کو جو مخصوص طور پر کسی فرد کے حق میں متعین نہیں ہے اس کو مخصوص فرد یا افراد کے لئے متعین قرار دے دے اور بذریعہ قانون اس کی تکمیل کے لئے انہیں مجبور کرے ۔ اس کے ماسوا یہ بالکل نیا اور غیر متعلق حق کسی ریاست کو کیسے مل سکتا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کی مِلکتیں چھین لے اور خود ہی سارا انتظام شروع کردے ۔ کیا یہ بھی کوئی سوشلسٹ منطق ہے کہ مقدمات خواہ کچھ ہوں ان سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہو گا ۔ یہاں بھی میں اس سوشلسٹ تفسیر کی مضحکہ خیز نوعیت کو مثال کے ذریعہ واضح کروں گا ۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں جو اعمال فرض کفایہ ہیں ان کی فہرست بہت بڑی ہے۔ ان میں صرف معاشی قسم کے احکام ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بہت سے احکام بھی ہیں۔ مثلاً دفاع، جہاد فی سبیل اللہ، دعوتِ حق ، تعلیم و تربیت ، شریعت کا علم حاصل کرنا ، نمازِ جنازہ، میت کی تجہیز و تکفین، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر و غیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader