مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
اب اگر کسی معاشرہ میں یہ تمام فرائض کفایہ یا ان میں سے کوئی ادا نہ ہو رہا ہو تو عدم ادائیگی فرض کی صورت میں سماجی ملکیت بنا دینے کی سوشلسٹ منطق یہاں بھی لاگو ہونی چاہئے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو معاشرہ ان فرائض سے غافل ہو جائے وہاں حکومت کا کام یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کو ان کے کرنے پر آمادہ کرے یا ذریعہ قوت انھیں مجبور کرے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرنے لگیں ۔ اس کے برعکس حکومت یہ کرے گی کہ لوگوں سے ذاتی طور پر ادائیگی فرض کا حق چھین لے گی اور سماجی پیمانہ پر خود ان کی ادائیگی کا اہتمام شروع کر دے گی ۔ کیا اسلام کے یہ سوشلسٹ مفسرین اپنی منطق کے اس نتیجہ کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ مثلاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک فرض کفایہ ہے ۔ اب اگر کسی زمانہ میں لوگ اس کو ادا کرنا چھوڑ دیں تو کیا اسلامی حکومت کا کام یہ ہوگا کہ تمام افراد معاشرہ سے تبلیغ حق اور تردید باطل کا حق سلب کر لے اور خود اس کی تنہا اجارہ دار بن جائے ۔ ظاہر ہے کہ اس صورتِ حال کا علاج صرف یہ ہے کہ ریاست لوگوں کو اکسائے ، انھیں مجبور کرے کہ وہ اپنا فریضہ پہچانیں نہ یہ کہ لوگوں سے حقِ تو اصلی ضبط کر لے اور اس کو اجتماعی ملکیت قرار دے کر خود اس کی متولی بن جائے ۔ جب قرآن سے براہِ راست کوئی دلیل نہیں ملتی تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اسلام یقیناً انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ افراد ، سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہوں ۔ اسلام اس سادہ لوحی سے بری ہے۔ وہ فرد کو حقوق دینے کے ساتھ اجتماعی مفاد کا بھی تحفظ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا فرمان ہے کہ اجتماعی مفاد کی خاطر غلط افراد کو ایسی حرکتوں سے باز رکھا جائے ، خواہ اس کے لئے سیاسی قوت اور جبری سے کیوں نہ کام لینا پڑے۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسلام نے اگر انفرادی ملکیت کی اجازت دی ہے تو وہ اس کو واپس نہیں لے سکتا ۔ اگر وہ دیکھے گا کہ افراد اپنی ملکیتوں کو سماج دشمن سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں تو یقیناً ان سے ملکیتیں چھین لی جائیں گی اور حکومت اپنے اہتمام میں ان کا انتظام کرے گی ۔ یہ صحیح ہے کہ کسی فرد کو ملکیت کے باب میں اتنی آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس کے غلط استعمال سے سماج میں فساد پیدا کرے اور اسے زوال و ہلاکت تک پہنچانے کا ذریعہ بنا لے۔ افراد اگر اپنی ملکیتوں کے استعمال میں شریعت کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرنے لگیں اور سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں تو اسلامی ریاست کو پورا حق ہے کہ انھیں اس سے روکے اور ان کو اپنی حد کے اندر واپس جانے پر مجبور کرے۔ مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حکومت افراد کی جائز طور پر حاصل کی ہوئی نجی ملکیتوں پر قبضہ کر سکتی ہے ۔ ان حضرات کے نزدیک شاید کسی چیز پر انفرادی ملکیت بھی ” سماج دشمن سرگرمیوں کی تعریف میں آتی ہوگی ۔ اشترا کی ملکوں کی منطق تو یہی بتاتی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader