مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
اس استدلال میں دراصل غلط بحث سے کام لیا گیا ہے۔ یہاں ذرائع اور اس کے استعمال کے فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ، اور اس طرح ذرائع کے غلط استعمال کی آزادی چھین لینے کے اصول سے خود ذرائع کے چھین لینے پر استدلال کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو اسباب و وسائل انسان کو عطا کئے ہیں ان کو صحیح سمت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور غلط سمت میں بھی۔ اسلامی ریاست قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی قوت فراہم کی جائے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرنے پر مجبور کرے نہ کہ خود ان نعمتوں کو انفرادی قبضہ سے چھین کر بیت المال میں جمع کردے۔ یقیناً ایسے مواقع آتے ہیں کہ اسلامی ریاست کو لوگوں کے اوپر جبر کرنا پڑتا ہے۔ مگر اس کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے ان کا جائز اثاثہ چھینتی پھرے۔ البتہ وہ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرے۔ مثال کے طور پر کپڑا خدا کی ایک نعمت ہے جو انسان کو ستر پوشی کے لئے دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص کپڑا لے کر اس کو سر پر باندھ لے اور ننگا گھومنا شروع کر دے تو اس سے کپڑا نہیں لے لیا جائے گا البتہ اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ کپڑے کا صحیح استعمال کرے اور اس کے ذریعہ اپنے بدن کو چھپائے۔ ذرائع و وسائل کے استعمال پر پابندی لگانے کے بجائے خود ذرائع دو وسائل کو چھین لینا خالص سوشلسٹ فکر کی پیداوار ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول بری ہیں ۔ اسلام کے نظریہ اجتماع سے مسئلہ ملکیت پر یہاں جو استدلال کیا گیا ہے وہ کس قدر لغو ہے اس کو ہم ایک مثال کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اموال و املاک کو زندگی کے قیام کا ذریعہ بتایا ہے (نساء۵) ٹھیک اسی طرح بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہے جو انسان کو فرائض زندگی ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اب فرض کیجئے کہ کسی معاشرہ میں لوگ بیویوں کے حقوق ادا نہ کریں یا کسی وجہ سے اس کا خطرہ پیدا ہو جائے کہ لوگ اپنی بیویوں کو غلط مقاصد میں استعمال کریں گے تو اس نظریہ کا تقاضا ہے کہ لوگوں سے ان کی بیویاں چھین لی جائیں اور تمام بیویوں کو سماجی ملکیت قرار دے دیا جائے۔ تاکہ عورتیں مفید ہی اغراض کے لئے استعمال کی جائیں اور فی الجملہ ان سے وہی کام لیا جائے جو مقصد تخلیق سے ہم آہنگ ہو۔ کیا اسلامی ریاست ایسا کوئی اقدام کر سکتی ہے۔ کیا کسی حال میں بھی اجتماعی تحفظ کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ تمام عورتوں کو سماجی ملکیت قرار دے دیا جائے۔ اس سلسلہ میں آخری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جدید حالات میں جب ٹیکنیکل ترقی نے معیشت کی ایک خاص طرح کی تنظیم ضروری قرار دے دی ہے بہت سی ملکیتوں کو اجتماعی قبضہ میں لینا ضروری ہو گیا ہے تاکہ سماج کی فلاح و ترقی کے بارہ میں اسلام کے مقاصد کا یقینی حصول ممکن ہو سکے۔ میرا جواب یہ ہے کہ شریعت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader