مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف مقاصد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان مقاصد کے حصول کے بنیادی طریقے بھی متعین کردئے ہیں اور یقیناً ان مقاصد کے حصول کا طریقہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے ۔ دوسرے طریقے یقینی حصول کے طریقے نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر صرف بگاڑ کے طریقے ہیں۔ انسان کے جائز طور پر کمائے ہوئے مال وجائیداد کو اللہ تعالیٰ نے محترم ٹھہرایا ہے۔ ریاست صرف ان مخصوص استثنائی صورتوں میں ان کے اندر مداخلت کرسکتی ہے جو خود شریعت نے متعین کردی ہیں۔ ان مخصوص و متعین صورتوں کے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے کہ انسان کی املاک اور اس کی جائیداد میں تصرف کرے۔ شریعت کی اس فہرست میں "اجتماعی تنظیم کے لئے مداخلت " کی کوئی دفعہ نہیں ہے ۔ اب اگر کوئی شخص ایک خود ساختہ اصول کو نافذ کرنے کے لئے اسلام کے دیئے ہوئے حقوق میں مداخلت کرتا ہے تو یقینی طور پر وہ انسانی وساوس کو شریعت کا درجہ دے رہا ہے ۔ وہ خدا کے دین میں تصرف کا ذمہ دار ہے ۔ اگر اسلام میں اس کی گنجائش ہے کہ حالاتِ زمانہ کا حوالہ دے کر اس کے احکام کو بدلا جا سکے تو پھر ایک شخص یہ بھی مطالبہ کر سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ بہت مصروفیت کا زمانہ ہے ، خاص طور پر قومی ترقی کی دوڑ میں اس بات کی بڑی اہمیت ہو گئی ہے کہ ہم اپنی انسانی صلاحیتوں کو پوری طرح قومی ترقی کے حصول میں لگا دیں اس لئے پنج وقتہ نماز کے حکم کو اب صرف بوڑھے اور از کار رفتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے اور بقیہ افراد کو آزاد کر دیا جائے کہ وہ پوری طرح فارغ ہو کر ترقیاتی کاموں میں اپنا حصہ ادا کر سکیں۔ ایک نمازہی کیا ، یہ دلیل تو ایسی ہے کہ پوری شریعت کو اس کے ذریعہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنیک ترقیوں کا حوالہ دے کر اجتماعی ملکیت کی ضرورت ثابت کرنا اور اھل اسلام کے اوپر ایک بہت بڑا الزام عائد کرنا ہے ۔ یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ موجودہ تمدن کے پیچیدہ مسائل کو اسلام حل نہیں کر سکتا اس لئے ضروری ہے کہ کم از کم معاشیات کی دنیا میں اسلام کے بجائے غیر اسلام کو اختیار کر لیا جائے ۔ گویا ان حضرات کا خیال ہے کہ اللہ تعالی نے ایک دائمی شریعت تو بھیج دی مگر نعوذ باللہ اس کو بیسویں صدی کے حالات معلوم نہ تھے اس لئے وہ اپنی شریعت میں ایسی ہدایات کو شامل نہ کر سکا جو موجودہ ترقی یافتہ حالات میں ہماری رہ نمائی کر سکیں۔ اگر صورت حال یہی ہے تو یہ محض قرآن کی بعض آیتوں کی تفسیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کو منسوخ کر کے " اشتراکیت کی انجیل " کو قرآن کا مقام دینا ہے ۔ کیا اسلام کی سوشلسٹ تفسیر کرنے والے لوگ اس اختراف کی جرات کریں گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader