مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
تیسرا استدلال یہ چند نمایاں مثالیں اس استدلال کی تھیں جن کے ذریعہ سے اجتماعی ملکیت کو اسلام کی شریعت اور فلسفہ شریعت سے برآمد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب شریعت کے مسلمہ اصولوں سے اس نظریئے کے حق میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو یہ حضرات اسلامی تاریخ کے بعض واقعات سے اس کے حق میں دلیل لاتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ تو اس کو اسلام کے مفاخر میں شمار کرتے ہیں کہ اس نے جائیداد کو قومی ملکیت میں لینے کا اصول سب سے پہلے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا جلد ۱۳ میں زمین کو سماجی ملکیت میں لینے کے عنوان پر جو مقالہ ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ ”حکومت کی جانب سے آراضی کے خرید لینے کے طریقے کو ایک جرمن گوسن نے پیش کیا۔ اس کے بعد ایک فرانسیسی پروفیسرلیان والرس نے اس کو از سر نو دریافت کیا،، چنانچہ ایک صاحب نے اس کو مقالہ نگار کی نا واقفیت قرار دیا ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ حکومت کی طرف سے زمین کو خریدنے کی سب سے پہلی مثال اسلام نے پیش کی ہے! انھوں نے دور نبوت اور خلافت راشدہ کے بہت سے واقعات کو اکٹھا کر کے دکھایا ہے کہ حکومت اسلامی نے زمینوں کی قیمت دے کر ان کے مالکوں سے جبراً انھیں خرید لیا تھا۔ اور یہ اس وقت ہوا جب کہ جرمنی اور فرانس کے سوشلٹ مفکرین ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ مگر فاضل معترض شاید یہ بھول گئے کہ یہاں اصل سوال محض ”حکومت کی طرف سے زمین کو خریدنے‘‘ کا نہیں ہے بلکہ سماجی مفاد کے نام سے افراد کی ملکیتوں کو واپس لینے کا ہے۔ اگر محض ”خریداری‘‘ کا مسئلہ ہو تو اس کی مثالیں اسلام سے بہت پہلے قدیم ترین سلطنتوں کی تاریخ میں بھی مل سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں اسلام کو اولیت کا سہرا پہنانے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ہے کہ اسلامی تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بعض افراد کی ملکیت کو جبراً ان سے حاصل کر لیا گیا تھا۔ مگر ان واقعات کا ” اجتماعی ملکیت‘‘ کے نظریئے سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اسلامی تاریخ میں ملکیت کو چھینے کی کوئی مثال ملتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی تاریخ میں اجتماعی معاشی فلسفہ کے تحت کسی کی ملکیت کو جبراً اس سے واپس لیا گیا ہے۔ اس حیثیت سے جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ تمام مثالیں اصل مسئلے سے بالکل غیر متعلق نظر آتی ہیں۔ ان سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اجتماعی ملکیت کے قیام کے لئے انفرادی ملکیتوں کی تنسیخ کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دلیلوں کی حیثیت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader