مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
” کس کی اینٹ کہیں کا رڈابھان متی نے کنبہ جوڑا “ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کے دور سے ملکیتوں کو چھینے کے جتنے واقعات پیش کئے جاتے ہیں وہ سب اصل مسئلے سے غیر متعلق ہیں۔ مثلاً مدینہ اور اطراف مدینہ کے مختلف قبائل کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے جلا وطن کر دینے کی مثال دی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ ” اجتماعی کاشت “ کی غرض سے نہیں چھینی گئی تھی۔ بلکہ اس کی وجہ یہود کی مسلسل غدار ی اور بد عہدی تھی۔ وہ اسلام کی قلمرو میں رہ کر اسلام کے خلاف مستقل سازشیں کرتے تھے اور اسلامی حکومت سے کئے ہوئے معاہدوں کو در پردہ توڑتے رہتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں خود ان کے اپنے مذہبی قانون کے مطابق انہیں جلا وطن کر دیا گیا۔ اسی طرح یہ مثال بھی دی جاتی ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو وسیع کرنے کے سلسلے میں حضرت عمر نے بعض لوگوں کے مکانات کو جبر اً ان سے لے لیا تھا۔ اس کی وجہ بھی ملکیت کا سوشلسٹ نظریہ نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خود خدا کے رسول نے کعبہ کی مخصوص استثنائی حیثیت کی بنا پر اس کے گرد حرم کی حدود مقرر کر کے یہ فرما دیا ہے کہ اس کے اندر کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ بعض لوگوں سے زمینیں اس لئے واپس لے لی گئی تھیں کہ وہ ان کو بے کار ڈالا ہوئے تھے اور ان پر کاشت نہیں کرتے تھے، ان مثالوں کو بھی دلیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا تعلق اس اصول سے نہیں ہے کہ ملکیت انفرادی ہو یا اجتماعی۔ بلکہ اس کا تعلق افتادہ زمینوں کے بارے میں اسلام کے قانون سے ہے۔ ایسی کسی زمین پر جو شخص قبضہ کرے مگر اس کے بعد وہ مسلسل اس کو غیر آباد رکھے۔ نہ خود کاشت کرے نہ دوسرے کو کاشت کرنے کے لئے دے تو ایک خاص مدت گزرنے کے بعد اس سے زمین واپس لے کر ایسے شخص کو دے دی جائے گی جو اس پر کام کر کے اس سے پیداوار حاصل کرے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بھی مثال پیش کی جاتی ہے کہ آپ نے شاہی خاندان کی بہت سی جاگیروں کو ضبط کر لیا تھا۔ حالانکہ یہ ضبطی اس لئے تھی کہ یہ جاگیریں ناجائز طور پر کچھ لوگوں کے قبضہ میں تھیں۔ آپ نے ان کو لے کر اصل حق دار کو واپس کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ سے کوئی ایک نظیر بھی اس بات کی پیش نہیں کی جاسکتی کہ ” معاشیات کی اجتماعی تنظیم “ کے لئے لوگوں کی جائز ملکیت ان سے چھین لی گئی ہو۔ اس سلسلے میں جتنی مثالیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق اجتماعی معاشیات سے نہیں ہے بلکہ قطعی طور پر دوسری چیزوں سے ہے۔ اس سلسلے کی تمام مثالوں پر تفصیلی گفتگو کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔ اس لئے میں صرف ایک مثال کا تجزیہ کروں گا۔ جس کو خاص طور پر اس کی مثال قرار دیا جاتا ہے کہ حکومت کو اختیار ہے کہ اگر وہ معاشی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader