مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
مصالح کے لئے ضرورت سمجھے تو کسی کی ملکیت چھین سکتی ہے۔ اسی سے دوسری تمام مثالوں کی حقیقت بھی واضح ہو جائے گی۔ یہ واقعہ سوادِ عراق کی زمینوں سے متعلق ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پیش آیا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ثانی کے دور میں جب عراق فتح ہوا تو وہاں کی زمینوں کے بارہ میں سوال اٹھا کہ اس کی ملکیت قرار دیا جائے۔ فوج کے سپاہیوں کا کہنا تھا کہ اس کو ہمارے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ اور حضرت عمرؓ کا کہنا تھا کہ اس کو حکومت کے قبضے میں رہنا چاہئے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ غرباء مساکین کی مدد کر سکے۔ ان حضرات کے نزدیک ایک طرف انفرادی ملکیت کا مطالبہ تھا اور دوسری طرف سماجی ملکیت کا۔ اس قضیہ کا جو آخری فیصلہ ہوا وہ یہ کہ زمین حکومت کے قبضے میں دے دی گئی۔ اس طرح خلیفہ دوم کے عمل نے انفرادی ملکیت کو رد کر دیا اور اجتماعی ملکیت کے طریقہ کو صحیح قرار دیا۔ یہ ہے اس استدلال کا خلاصہ۔ لیکن اگر واقعہ کی اصل تصویر کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ استدلال بالکل اسی قسم کا ہے جیسے نئی دہلی کی کسی سڑک پر ایک انگریز کا مجسمہ دیکھ کر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ ہندوستان پر اب بھی انگریزوں کی حکومت قائم ہے۔ اور یہ فرض کر کے انگریزی حکومت کی تائید میں تقریر کرنا شروع کر دے۔ عراق کی زمینوں کا مسئلہ پیش کر کے سوشلسٹ حضرات دو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک یہ کہ صدر اول میں سماجی ملکیت کا طریقہ اختیار کرنے کی مثال موجود ہے ۔ دوسرے یہ کہ کسی جائیداد کو حکومت کے انتظام میں لینے کے لئے افراد کی ملکیتوں کو چھینا جا سکتا ہے۔ مگر مذکورہ بالا مثال کا ان دونوں باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہاں سوال یہ نہیں تھا کہ کھیتوں کو انفرادی کاشت کاروں کے پاس رہنے دیا جائے یا حکومت کے قبضہ میں دے کر اجتماعی کاشت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ وہاں جو سوال تھا وہ یہ تھا کہ ان نئی حاصل شدہ زمینوں کا انتظام کس طرح ہو ۔ ان زمینوں کو سپاہیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے یا مقامی باشندوں کے قبضہ میں حسب سابق برقرار رکھ کر ان پر خراج لگا دیا جائے ۔ دوسرے لفظوں میں ان زمینوں کو بہرحال میں انفرادی کسانوں کے زیرِ کاشت رہنا تھا۔ وہاں کسی کا بھی یہ دعویٰ نہیں تھا کہ ان کو انفرادی کاشت کاروں سے واپس لے لیا جائے بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ انفرادی کاشت کار کون ہو۔ مسلمان فوج کے سپاہی یا وہ مقامی باشندے جو پہلے سے ان زمینوں پر کاشت کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ دونوں میں سے جو صورت بھی طے پاتی یہ زمینیں بہرحال انفرادی کاشت کاروں کے استعمال ہی میں رہتیں اور حکومت کو حق ہوتا کہ ایک بندوبست کی صورت میں ان زمینوں سے غشلے اور دوسرے بندوبست کی صورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader