مسلم سوشلستوں کے دلائل
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ان سے خراج وصول کرے ۔ اگر یہ بھی سوشلزم کی کوئی قسم ہے کہ ذرائع پیداوار افراد کے قبضے میں ہوں اور وہ ان پر تنہا یا دوسروں کی مدد سے کام کر کے پیدا وار حاصل کریں اور ہر سال پیدا وار کا ایک حصہ یا مقررہ ٹیکس حکومت کو ادا کر دیا کریں تو ان معنوں میں قدیم شاہی نظام عین سوشلسٹ نظام تھا۔ کیونکہ اس میں بھی یہی ہوتا تھا کہ زمینوں پر افراد ذاتی حیثیت سے کام کرتے تھے اور اس کے بعد براہ راست یا جاگیر دار اور زمیندار کے واسطے سے حکومت کو مقررہ ٹیکس ادا کر دیتے تھے ۔ دوسرا استدلال اور بھی زیادہ بے معنی ہے کیونکہ وہاں کسی کی ملکیت چھینے کا سوال نہیں تھا بلکہ یہ سوال تھا کہ ایک نئی حاصل شدہ چیز کو قانوناً کس کی ملکیت قرار دیا جائے۔ فتوحات کے ذریعہ جو غیر منقولہ جائیدادیں اسلامی حکومت کو حاصل ہوتی تھیں ان کے سلسلہ میں اب تک دو قسم کے طریقے رائج تھے۔ ایک یہ کہ انہیں سپاہیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ انہیں اسلامی حکومت کی براہ راست ملکیت میں رکھا جائے اور اس کی آمدنی سے حکومت کی ضروریات پوری کی جائیں ۔ ۱۷ھ میں جب عراق فتح ہوا اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا جو دجلہ و فرات کے درمیان واقع ہے تو سوال پیدا ہوا کہ ان زمینوں کے بارے میں مذکورہ بالا دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ پر عمل کیا جائے۔ گویا وہاں کسی کی ملکیت چھینے کا سوال نہیں تھا بلکہ ملکیت کو متعین کرنے کا سوال تھا ۔ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی کی ملکیت نہیں چھین رہے ہیں بلکہ ملکیت جسے ملنی چاہئے اسے دے رہے ہیں۔ اس تقریر کے چند فقرے یہ ہیں :- قد سمعتم كلام هولاء القوم الذين تم نے ان لوگوں کی باتیں سن لیں حسن کا زعموا انی اظلمهم حقو فهم ۔ وانی اعوذ خیال ہے کہ میں نے عراق کی زمین کو فوجیوں بالله ان اكب ظلما ، لئن كنت ظلمتهم کے درمیان تقسیم نہ کر کے، ان کے اوپر ظلم شيئاً هو نهم واعطيته غيرهم لقد کیا ہے ۔ خدا کی پناہ کہ میں کسی کے اوپر ظلم کروں ۔ شقیت ۔ وكن رأیت انه لم يبق شيئ اگر میں نے کوئی ایسی چیز لی جو ان کی تھی يفتح بعد ارض كسرى وقد غنمن الله اور ان سے چھین کر دوسرے کو دے دیتا توابتد اموالهم وارضهم وعلوجھم میں غلط کار تھا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر میں فقسمن ما غنمو ا من اموال کسریٰ کی اس زمین کو تقسیم کر دوں تو آئندہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader