Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مسلم سوشلستوں کے دلائل

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

بین اہلہ وخرجت الخمس فوجهۃ علی وجهہ و انا فی توجیهہ ـ وقد رایت ان احبس الارضين بعلوجها واصنع عليهم فيها الخراج ونی رقابهم الجزية يودونها فتكون فيئا للمسلمين المقاتلة والذرية ولمن ياتی من بعدهم . لھ فتوحات کا سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا۔ کیونکہ فوجی مہموں کے اخراجات پورے کرنے کی دوسری کوئی صورت نہیں ہے) اس فتح میں اللہ نے ہم کو مختلف قسم کے اموال بھی دیئے ہیں اور زمینیں بھی۔ پس اموال میں سے میں نے پانچواں حصہ نکال کر بقیہ کو اس کے مستحقوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے صحیح کیا۔ اور زمینوں کے متعلق میرا خیال ہے کہ ان کے کافر مالکوں کے ہاتھ میں انھیں رہنے دوں اور اس کے بدلے ان پر خراج عائد کروں اور ان کے اوپر جزبہ بھی ہے جس کو وہ ادا کریں گے۔ اس طرح مسلمان فوجیوں کے لئے اور ان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے یہ ایک نے ہوگی۔ حضرت عمرؓ کی تقریر کے بعد سب نے ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ فقالوا جميعا الرأى رأىك فنعم ماقلت وما رأیت (آپ ہی کی رائے صحیح ہے، جو کچھ آپ نے کہا ٹھیک کہا) یہ ہے اصل واقعہ۔ اب غور کیجئے کہ کیا اس سے کسی بھی طرح سے اجتماعی کاشت اور سلب ملکیت کا سوشلسٹ اصول اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کا تمام تر تعلق اس بات سے ہے کہ مفتوحہ زمین کس کی ملکیت ہوتی ہے نہ یہ کہ افراد کی جائز ملکیتوں کو ان سے چھینا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں خود یہ فرما دیا ہے کہ مجھے کسی کی ملکیت چھینے کا حق نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو میں غلط کار ہوں گا۔ عراق کی زمینوں کے مسئلے کا اوپر ہم نے جو تجزیہ کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سوشلسٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page