حرفِ آخر
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
وزارت خوراک و زراعت کے شعبہ اقتصادیات واعداد و شمار کی اطلاع کے مطابق ۱۹۵۲-۵۳ ء میں غذائی اجناس کی پیداوار پانچ کروڑ ۴۱ لاکھ ۲۰ ہزار ٹن تھی کہ اس پیداوار کے مطابق ہندستان میں بسنے والے ایک ایک شخص کے حصہ میں روزانہ آٹھ چھٹانک غلہ آتا ہے ۔ جبکہ پچھلے کنٹرول میں حکومت کی طرف سے بڑوں کو چھ چھٹانک اور بچوں کو صرف تین چھٹانک راشن ملتا تھا ۔ پیداوار کا یہ حال اس وقت ہے جب کہ ہندستان کے رقبہ زمین کا صرف ۳۴ فیصد حصہ بویا جارہا ہے ۔ اور جنگلات وغیرہ کو چھوڑ کر اس کا سولہ فیصد قابل کاشت حصہ ابھی تک بیکار پڑا ہوا ہے۔ پھر جو زمینیں زیر کاشت ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ۲ کروڑ ۷۲ لاکھ ایکڑ میں سے ۱۹۵۱ء کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پانچ کروڑ دس لاکھ ایکڑ اراضی کے لئے آبپاشی کی سہولتیں حاصل ہیں۔ یعنی کل بوئی جانے والی زمینوں کا تقریباً ۱۸ فیصد حصہ ، جب کہ ہمارے ملک میں بہت بڑے بڑے دریا ہیں جن میں بہنے والے پانی کا اندازہ ایک ارب ۲۵ کروڑ ساٹھ لاکھ ایکڑ فٹ سالانہ ہے ۔ اس میں سے صرف سات کروڑ ساٹھ لاکھ ایکڑ فٹ یعنی پانچ اعشاریہ چھ فیصد پانی آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ باقی یوں ہی سمندر میں جاگرتا ہے ، لے اگر آبپاشی کا مکمل انتظام ہو جائے اور سائنس کے آلات، اور جدید فن زراعت کے مطابق کھیتی کی جائے تو موجودہ پیداوار کو کئی گنا تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ پھر زمینی پیداوار کے علاوہ گوشت انسان کی ایک اہم غذا ہے۔ ہندستان کے دریاؤں اور سمندروں سے اس وقت جتنی مچھلی حاصل کی جارہی ہے وہ تقریباً دس لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ پلاننگ کمیشن نے اس مقدار کو ساڑھے لاکھ ٹن تک پہنچانے کا مشورہ دیا ہے ۔ لہ اور اگر جدید ترین ذرائع اختیار کئے جائیں تو ہندستان کے ساحل سے ہر سال کروڑوں من مچھلی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ قدرت نے اور بہت سی جاندار چیزیں ہمارے کھانے کے لئے پیدا کی ہیں ، مگر انسان اپنی حماقت کی وجہ سے ان کو اپنی خوراک بنانے کے بجائے خود اپنی خوراک کا ایک بڑا حصہ ان کو کھلا رہا ہے۔ ایسی صورت میں خاندان کی پلاننگ کی بات بے معنیٰ ہو جاتی ہے جس کو ہمارے بڑے بڑے لیڈر تک معاش کے مسئلہ کا سب سے بڑا حل سمجھتے ہیں ۔ لے قومی آواز ، ۲ اکتوبر ۱۹۵۳ء لے حکومت ہند کے نائب وزیر آبپاشی و برق مسٹر جے سکھ لال کی آل انڈیا ریڈیو سے تقریر ۶ جولائی ۱۹۵۵ ء ، بحوالہ قومی آواز ، ۱۰ جولائی ۱۹۵۵ ء ۔ سے پہلا پنچ سالہ پلان ، ص ۱۹۶ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader