Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم اور اسلام

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے نزدیک معاشی مسئلہ کا سبب آبادی کا بڑھنا نہیں ہے ۔ ایک سو سال پہلے جتنے انسان روئے زمین پر بستے تھے، اگر زمین میں اس سے زیادہ آباد کاری کی صلاحیت تھی تو کیوں نہ اور انسان پیدا ہوتے۔ یہ زمین اور اس کے ذرائع و وسائل اس لئے تو نہیں ہیں کہ بس بے کار پڑے رہیں۔ ان کو وجود میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں کام میں لایا جائے ۔ در حقیقت اس خوفناک مسئلہ کے پیدا ہونے کا سبب قدرت کے انتظام میں نہیں بلکہ خود انسانی انتظام میں ہے۔ خدا نے اناج پیدا کرنے کے لئے زمین بنائی ہے، مگر ہم اپنے کھیتوں سے غلہ اگانے کے بجائے اس کو بے کار چھوڑ دیں یا فصل اگائیں مگر کھلیان میں آگ لگا دیں تو کیا ان کے بعد آنے والے نتائج کی ذمہ داری بھی خدا پر ہوگی۔ سرمایہ کی گردش معاش کے سلسلہ میں اصل چیز جو اہمیت رکھتی ہے وہ سرمایہ کی گردش ہے۔ یہ گردش اگر اس طرح ہو کہ روپیہ ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچتا رہے تو سب لوگ خوش حال ہوں گے ۔ اور اگر ایسا ہو جائے کہ روپیہ صرف چند لوگوں کے درمیان گھومے تو خوش حالی بھی صرف چند لوگوں کے حق میں چلی جائے گی اور بقیہ لوگ بدحالی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے ۔ ۵۲-۱۹۵۱ء میں ہندوستان کی قومی آمدنی کا جو اندازہ کیا گیا تھا وہ ننانوے ارب، نوے کرور روپیہ ہے۔ جس کے مطابق فی کس آمدنی صرف بارہ آنے ہوتی ہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلہ میں یہ مقدار چونکہ بہت کم ہے، یعنی بارہواں یا پندرہواں حصہ، اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان بہت غریب ملک ہے۔ مگر خوش حالی اور بدحالی کو ناپنے کا یہ معیار صحیح نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جو چیز اصل اہمیت رکھتی ہے وہ یہ سوال ہے کہ ملک کے اندر جتنی دولت ہے، وہ ٹھیک طریقہ سے گردش کر رہی ہے یا نہیں۔ کسی ملک میں اگر دولت کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ آبادی کے حد سے اس کو تقسیم کیا جائے تو فی کس بہت بڑی رقم آتی ہے۔ لیکن یہ تمام دولت صرف چند لوگوں کے درمیان گھوم رہی ہو تو یہ چند لوگ تو ضرور وخوش حال ہوں گے مگر بقیہ آبادی مفلس پڑی رہے گی ۔ قومی آمدنی کے جو اندازے کئے جاتے ہیں ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ ملک کے اندر اتنی تعدا د میں دولت موجود ہے مگر اجتماعی زندگی میں کسی دولت کی قدر و قیمت اس کی مقدار کے اعتبار سے متعین نہیں ہوتی بلکہ لین دین کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ لین دین کیا جائے گا اسی کے قدر اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ مثال کے طور پر آج آپ کے پاس ایک روپیہ ہے، مگر جب آپ کسی مزدور سے کام لے کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page