Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرمایہ کی گردش

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

اس روپیہ کو مزدور کے حوالہ کرتے ہیں تو عملا وہ دو روپیہ کے برابر ہو جاتا ہے ۔ پھر اس مزدور نے غلہ خریدا تو وہ تین روپیہ بن گیا ۔ پھر دکاندار نے اس سے کپڑا خرید لیا تو وہ چار روپیہ بن گیا۔ کپڑے کے دکاندار نے ایندھن کی لکڑی خرید کر اسے پانچویں آدمی کے حوالہ کیا تو وہ ایک روپیہ پانچ روپیہ بن گیا۔ اسی طرح جتنی زیادہ گردش ہوگی اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت بڑھتی چلی جائے گی ۔ یہاں تک کہ یہی ایک روپیہ اگر ایک درجنس آدمیوں کے ہاتھ میں پہنچے اور وہ سب اس کو خرچ کرتے چلے جائیں تو وہ بارہ روپیہ کہ ایک درجنس آدمیوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ اگر آپ اس کو خرچ نہ کرتے تو وہ بس ایک روپیہ کی شکل میں آپ کے کپس کے اندر پڑا رہتا۔ مگر جب وہ استعمال ہوا تو اس نے بہت سے آدمیوں کو فائدہ پہنچایا اور کئی روپیہ کے برابر کام کیا۔ اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ماہرین اعداد و شمار کے اندازہ کی حقیقت کیا ہے۔ ان ماہرین کو اگر مذکورہ بالا بارہ آدمیوں کی فی کس آمدنی متعین کرنی ہو تو وہ بس یہ دیکھیں گے کہ ان لوگوں کے درمیان جو دولت ہے اس کی مقدار کیا ہے۔ پھر جب انہیں معلوم ہوگا کہ وہ صرف ایک روپیہ ہے تو کہہ دیں گے کہ ان لوگوں کی فی کس آمدنی تقریباً تین پیسے کے برابر ہے۔ حالانکہ عملاً جو صورت حال ہے وہ یہ کہ اگر یہ دولت گردش کرے تو ہر ایک کو ایک روپیہ کے بقدر آمدنی دے سکتی ہے۔ اور گردش نہ کرے تو اس ایک شخص کی آمدنی تو ایک روپیہ ہوگی جس کے پاس وہ موجود ہوگا اور بقیہ لوگوں کی آمدنی ایک پیسہ بھی نہیں ہوگی۔ پلاننگ کمیشن نے کہا ہے کہ ہندستان کی موجودہ قومی آمدنی کو دگنا کرنے کے لئے ہم کو پانچ پنج سالہ منصوبوں کا انتظار کرنا چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہر ایک شخص کی آمدنی سوا سو روپیہ ماہوار ہو جائے تو اس کے لئے ہمیں پوری ایک صدی تک انتظار کرنا ہوگا۔ میں یہ مانتا ہوں کہ صنعت و تجارت کی ترقی سے ہماری ملکی دولت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ مگر جیسا کہ خود پلاننگ کمیشن نے بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے یہ ہو سکتا ہے کہ بڑھی ہوئی دولت کا زیادہ حصہ چند لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے اور عوام کی اکثریت اپنی موجودہ مفلسی کے عالم میں پڑی رہے۔ اگر ایسا ہوا تو لمبی مدت گزارنے کے بعد بھی اصل سماجی مقصد کے حاصل کرنے میں ناکامی ہوگی کیونکہ اصل مقصد خوش حال لوگوں کو خوش حال تر بنانا نہیں ہے۔ بلکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page