Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرمایہ کی گردش

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

خوش حالی میں عام انسانوں کو شریک کرنا ہے ۔ کسی ملک میں دولت کے حصول اور اس کی تقسیم کے ذریعے دو طبقے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ ایک حکومت جو مختلف قسم کے ٹیکس ، بڑی بڑی صنعتوں پر اجارہ داری اور دوسرے ذرائع سے کثیر مقدار میں سرمایہ حاصل کرتی ہے ۔ دوسرے عوام میں سے وہ لوگ جو ملک کی زراعت اور کاروبار پر قابض ہوتے ہیں ۔ روپیہ کی گردش کا سوال دراصل ان ہی دونوں طبقوں کی کارکردگی سے تعلق رکھتا ہے ۔ پہلے حکومت کو لیجئے ۔ حکومت اپنے ذرائع سے جو رقم حاصل کرتی ہے اس کو گردش دینے کا سب سے بڑا ذریعہ سرکاری ملازمتیں ہیں۔ عوام سے جو روپیہ وصول کیا جاتا ہے وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے ذریعہ عوام کو واپس کیا جاتا ہے ۔ مگر اس معاملہ میں ساری دنیا میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ملازمین کی تقسیم کر دی گئی ہیں ۔ ایک طرف وہ تھوڑے سے اونچے عہدیدار ہیں جن کو بڑی بڑی تنخواہیں اور بھاری الاؤنس دیے جاتے ہیں ۔ جن کو سفر و حضر میں مختلف قسم کی رعائیتیں اور اعزازات حاصل ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف عام ملازمین کی وہ بھیڑ ہے جس کو نہایت قلیل تنخواہ پر کام کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس طرح وہ سرمایہ جو سارے ملک سے وصول کیا جاتا ہے ، اس کا بڑا حصہ چند اشخاص کے حوالہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور اس کا صرف تھوڑا حصہ زیادہ اشخاص کے درمیان تقسیم ہوتا ہے یہ مسئلہ قدیم ترین زمانے سے انسان کے لئے پریشانی کا باعث رہا ہے ۔ ہر زمانہ میں ایسا ہوا ہے کہ جو لوگ اقتدار کے مالک تھے ، انھوں نے شرف اور دولت کا بڑا حصہ صرف اپنے لئے سمیٹ لیا ۔ اور بقیہ آبادی کو مجبور کیا کہ وہ ہر قسم کی نعمتوں سے محروم ہو کر زندگی گزارے۔ دنیا میں جو انقلابات ہوئے ہیں انھوں نے صرف یہ کیا کہ ایک طبقہ کی ولی عہدی ختم کر کے دوسرے طبقے کے حوالہ کر دی ۔ مگر زندگی کی نعمتوں پر اجارہ داری کی صورت حال کو وہ ختم نہ کر سکے ۔ ابتدائی زمانہ میں جب دنیا میں قبائی نظام رائج تھا ۔ قبیلوں کے سردار تمام فائدے اور امتیاز کے مالک ہوتے تھے ۔ پھر شہنشاہی نظام میں شاہی خاندان نے یہ حیثیت حاصل کر لی ۔ اس کے بعد جمہوری انقلاب آیا ۔ مگر اس نے بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا کہ پہلے جو کچھ محل کے شہزادوں کے لئے مخصوص ہوتا تھا اس کو سیاسی لیڈروں کے حوالہ کر دیا ۔ پھر سرمایہ دارانہ جمہوریت کو ختم کرنے کے لئے اشتراکیت اٹھی ۔ مگر اس کا انجام بھی صرف یہ ہے کہ پچھلے سرمایہ داروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page