سرمایہ کی گردش
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جگہ کمیونسٹ لیڈروں نے لے لی ہے۔ زار نکولس اور چیانگ کائی شیک کے زمانہ میں بھی عوام زندگی کی نعمتوں سے محروم تھے اور اب مارشل بلگانن اور چاؤ این لائے کے اقتدار کے تحت بھی وہ بدستور محروم ہیں ہندوستان میں آزادی کا انقلاب جن تمناؤں کے ساتھ آیا تھا وہ یہ کہ ملک کے ذرائع و وسائل جن پر چند لاکھ انگریز قابض ہو گئے ہیں ان کو چھین کر ملک کے تمام باشندوں تک پھیلا دیا جائے ۔ انگریز صرف اس لئے برا نہیں تھا کہ وہ دیسی قوم سے تعلق رکھتا تھا، بلکہ اس لئے برا تھا کہ اس کے نظام میں کچھ لوگ خوش حال اور بقیہ تمام آبادی بدحال ہو گئی تھی ۱۹۳۸ء میں وائسرائے ہند اور مہاتما گاندھی کے درمیان خط و کتابت ہوئی تھی جس میں گاندھی جی نے لکھا تھا: ” آپ سوال کریں گے کہ میں برطانوی حکومت کو لعنت کیوں سمجھتا ہوں، اس حکومت نے ہندوستان کے کروڑوں بے زبان انسانوں کو ایڈمنسٹریشن کے فضول سسٹم اور فوج کے غیر معمولی اخراجات سے مفلس و قلاش بنا دیا ہے مگر آزادی کے بعد بھی وہی کیفیت باقی ہے، بلکہ اب فوج اور ایڈمنسٹریشن کے اخراجات پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو گئے ہیں، اور چھوٹے ملازمین اور بڑے عہدیداروں کے درمیان اب بھی وہی فرق پایا جاتا ہے جو انگریزوں کے زمانہ میں تھا۔ ایک طرف اس ملک کے کروڑوں عوام کی آمدنی ۲۵۔ ۳۰ روپے ماہوار سے زیادہ نہیں ہے، دوسری طرف اتنے ہی دنوں کے لئے عوامی جمہوریہ کے صدر کی جو تنخواہ از روئے دستور مقرر کی گئی ہے وہ دس ہزار اور ریاستوں کے گورنر کے لئے ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ہے۔ اس کے علاوہ تمام الاؤنس اور امتیازات جو انگریزی حکومت میں گورنر جنرل اور گورنر کو دیے جاتے تھے، وہ اب آزاد ہندستان کے صدر اور موجودہ گورنروں کو حاصل ہیں اور ان امتیازات اور الاؤنس کے سلسلہ میں جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے اس کی مقدار اصل تنخواہ سے بہت زیادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader