Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم اور اسلام

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

چپراسی کی تنخواہ ۳ روپے اور ایک افسر کی پانچ سو روپئے سے شروع ہوتی ہے اور آخری حد پر پہنچ کر چپراسی کی تنخواہ جب پچاس روپئے اور افسر کی تنخواہ ساڑھے تین ہزار ہو جاتی ہے تو یہ فرق ایک اور سو تک پہنچ جاتا ہے۔ اور اگر ایک صوبائی وزیر کی تنخواہ اور اس کے اخراجات جو حکومت کے خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں، جوڑے جائیں تو آٹھ ہزار روپئے ہوتے ہیں۔ اور اور وزیر اور چپراسی کے درمیان تنخواہ کا فرق ایک اور پونے دو سو کا ہو جاتا ہے لیے ابتدائی مدرسوں کے لاکھوں استاد جو قوم کے کروڑوں بچوں کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں، ان کو صرف چند روپیہ مہینہ کے معاوضہ پر ساری عمر کام کرنا ہوتا ہے اور حکومت کو اس سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، مگر خود اپنے بارہ میں اس کا حال یہ ہے کہ ہزاروں روپئے کی تنخواہیں اور الاؤنس بھی اس کے لئے ناکافی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ اس میں مزید اضافہ کر دیا جائے۔ ملک کے کروڑوں باشندے گرمیوں میں جھلس کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، دوسری طرف وزیروں اور اعلیٰ عہدیداروں کا حال یہ ہے کہ ان کو اپنے بنگلے کے اندر خس کی ٹٹیوں اور بجلی کے پنکھوں سے بھی آرام نہیں ملتا اور مئی جون میں ان کے دفاتر پہاڑ کی چوٹیوں پر منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔ جہاں ان کے لئے مستقل گرمائی دارالسلطنت بنے ہوئے ہیں۔ اسپیشل ٹرینوں کے ذریعہ سرکاری طور پر ان کو وہاں پہنچایا جاتا ہے اور پھر واپس لایا جاتا ہے۔ مسئلہ کا حل اس صورتِ حال کا علاج اسلام نے یہ تجویز کیا ہے کہ وہ تمام فرق جو محض عہدہ اور حیثیت کی بنا پر ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان قائم ہوتے ہیں ، ان کو مٹا دیا جائے۔ اور کاغذی مساوات کے بجائے حقیقی معنوں میں تمدنی مساوات اور معاشی انصاف قائم کیا جائے۔ عرب میں جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے لفظوں میں صاف صاف اعلان کر دیا کہ اس معاملہ میں اسلامی نظامِ حکومت کی پالیسی کیا ہوگی۔ آپ نے فرمایا۔ ليس لاحد علی احد فضل خدا پرستی اور خدا ترسی کے سوا اور کسی بنیاد پر الا بدین او تقویٰ ایک شخص کو دوسرے شخص پر فضیلت نہ ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page