مسئلہ کا حل
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پالیسی پر اسلامی حکومت میں اس طرح عمل ہوا کہ عام پبلک اور بڑے عہدیداروں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ حضرت عمرؓ جو اپنے زمانہ کی ایک عظیم سلطنت کے سب سے بڑے عہدیدار تھے، انھوں نے اپنی نسبت فرمایا : انی انزلت نفسی من مال حکومت کے مال میں میں نے اپنے آپ کو یتیم کے سرپرست کا الله بمنزلة والى اليتيم ان درجہ دے رکھا ہے۔ فراغت کی حالت میں اس مال استغنت استعفف وان سے پر ہیز کروں گا، اور احتیاج کی صورت میں صرف افتقرت اكلت بالمعروف (اخرجہ البیہقی)۔ بقدر ضرورت لوں گا ۔ آپ نے ایک موقع پر خود اپنے مصارف اس طرح بتائے : اخبرکم بما يستحل لى منه حللتان میں تمھیں بتاتا ہوں کہ حکومت کے خزانے سے میرے حلة فى الشتاء وحلة فى القيظ۔ لئے کتنا لینا جائز ہے۔ دو جوڑے کپڑے، ایک جاڑے وما اجر عليه واعتمر من الظهر کے لئے اور ایک گرمی کے لئے۔ ایک سواری جس پر و قوتی و قوت اهلی كقوت رجل من حج اور عمرہ ادا کرسکوں اور اپنے اور اپنے گھر والوں قريش ليس باغناهم ولا بافقرهم کے لئے کھانا قریش کے ایک آدمی کے کھانے کے ثم انا بعد رجل من برابر جو نہ ان میں سب امیر ہو اور نہ سب سے غریب۔ المسلمين يصيبنى ما اصابهم اس کے بعد میں عام شہریوں میں سے ایک شہری ہوں ۔ جو سب کا حال ہے وہی میرا حال ہے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز جو اپنے وقت میں دنیا کی عظیم ترین سلطنت کے مالک تھے، ان کے گھر عراق سے ایک بڑھیا آئی، جس کو اپنی لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں روپیہ کی ضرورت تھی اندر داخل ہوئی تو دیکھا کہ ایک نہایت معمولی مکان ہے جس میں نہ کوئی فرنیچر ہے نہ کوئی اور سازو سامان۔ اس نے کہا، یہ گھر تو خود ویران ہے، یہ میری کیا مدد کرے گا ۔ عمر بن عبد العزیز کی بیوی نے جواب دیا، تمھیں لوگوں کا گھر بنانے میں تو یہ گھر اس طرح اجڑ گیا ہے۔ اس کے بعد خلیفہ آئے اور انھوں نے بڑھیا کی تمام ضرورتیں پوری کردیں۔ اس قسم کے واقعات سے اسلامی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اسلامی معاشرہ میں عام پبلک اور حکمرانوں کے درمیان سیاسی اختیارات کے سوا اور کسی حیثیت سے فرق نہیں ہوتا ۔ ایک عام آدمی کے جو شہری حقوق ہوتے ہیں وہی بڑے سے بڑے عہدیدار کے بھی ہوتے ہیں۔ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader