مسئلہ کا حل
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
سرکاری خزانہ سے وزیروں اور گورنروں کو بھی اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا عام شہریوں کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکسوں اور دوسری سرکاری مددوں سے جو دولت اکٹھا ہوتی ہے وہ صرف گورنمنٹ ہاؤسوں میں خرچ نہیں ہوتی بلکہ تمام باشندوں تک منصفانہ طریقہ سے پہنچتی ہے۔ اور ہر طرف خوش حالی دوڑ جاتی ہے۔ چنانچہ عرب میں جو اسلامی انقلاب آیا اس کے بعد وہاں یہ حال ہوگیا تھا کہ شہروں میں لوگ صدقات کی رقمیں لیے پھرتے تھے اور کوئی اس کو لینے والا نہیں ملتا تھا۔ ذہنی صلاحیت کی کمی بیشی کے اعتبار سے مختلف افراد کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی تمدنی نظام حقیقی معنوں میں نہیں بنایا جاسکتا۔ مگر اس سلسلہ میں دو باتوں کا لحاظ ضروری ہے ۔ ایک تو یہ کہ یہ فرق لامحدود نہ ہو اور دوسرے یہ کہ عہدہ کے اعتبار سے اعزازات اور رسمی تحفظات کی فضول تقسیم مٹا دی جائے ۔ آج کل ایک وزیر کے سفر میں لاکھوں روپئے بالکل فضول صرف کر دیے جاتے ہیں ۔ اس طرح کے اخراجات کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اور ان ہی چیزوں سے وہ غیر حقیقی امتیاز پیدا ہوتا ہے جس کو مٹائے بغیر کوئی ہموار معاشی نظام نہیں بنایا جاسکتا۔ سرمایہ کی گردش کا دوسرا میدان کاروبار اور وہ تجارتی لین دین ہے جو عام پبلک کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ اس معاملہ میں آج کل کی دنیا میں دو طریقے رائج ہیں ۔ ایک بالکل آزاد اور بے قید تجارت ۔ جیسا کہ جمہوری ممالک میں ہے ۔ اور دوسرے یہ کہ تمام کاروبار کو قومی ملکیت قرار دے کر حکومت کی تحویل میں دے دیا جائے اور حکومت کے ملازم اسے چلائیں۔ یہ دونوں طریقے دولت کو عمومی گردش میں آنے سے روکتے ہیں۔ قومی ملکیت کے نظام میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں طاقت اور کاروبار دونوں ایک گروہ کے ہاتھ میں اکٹھا ہو جاتے ہیں ۔ زمینداروں اور کارخانہ داروں سے تو یہ کہہ کر ان کی ملکیتیں چھینی جاتی ہیں کہ یہ پوری قوم کے لئے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ان کا انتظام کسی ملک کے تمام باشندے نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ انتظام کے نام سے وہی لوگ ان پر قبضہ کر لیتے ہیں جو پہلے سے اقتدار کے مالک ہیں۔ پھر جب پچھلا سرمایہ دار محض اس لئے بے حساب نفع اپنے لئے سمیٹ رہا تھا کہ وقت کا قانون اس کو اس بات کی اجازت دیتا ہے ، تو یہ دوسرا سرمایہ دار بھی آخر وہی کام کیوں نہیں کرے گا جب کہ اس کو قانون بنانے اور چلانے کا اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader