Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مسئلہ کا حل

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس کی واضح مثال خود ان ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں عملاً آج قومی ملکیت کے اصول کی حکومت ہے۔ روس میں کمیونزم کے غلبہ کو نصف صدی سے زیادہ ہورہے ہیں مگر خود کمیونسٹ حضرات یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں معاشی مساوات نہیں آئی ہے جس کے لئے ساری مار دھاڑ کی گئی تھی ۔ ” سوویت یونین “ جو روس کی سرکاری نیوز ایجنسی ” تاس “ کا پندرہ روزہ ترجمان ہے۔ ایک سوال ”کیا سوویت یونین میں برابری ہے ؟ “ کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے : ” سوویت شہریوں کو اپنی مادی ضرورتیں پوری کرنے کے معاملہ میں اب بھی پوری برابری حاصل نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ انھیں سماج کی پیداوار سے اپنی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ محنت کے مطابق حصہ ملتا ہے۔ عوام کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کے متعلق مکمل مساوات صرف کمیونزم کے تحت ہی ممکن ہے ۔ جس کی تعمیر آج کل سوویت یونین میں ہورہی ہے۔ کمیونزم کے تحت سماجی زندگی کا بنیادی اصول یہ ہوگا ۔ ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے ۔ ہر ایک کو اس کی ضرورتوں کے مطابق دیا جائے لیں۔ ۱۹۱۷ء میں لینن نے وعدہ کیا تھا ” بڑے عہدیداروں کی تنخواہ چھوٹے ملازمین سے زیادہ نہیں رکھی جائے گی ۔“ مگر آج روس میں آمدنیوں کا وہی فرق پایا جاتا ہے جو سرمایہ دار ملکوں میں ہے۔ سوویت انکم ٹیکس شیڈول سنہ ۱۹۶۹ء میں ٹیکس لگانے کا جو ریت دیا گیا ہے، وہ پانچ سو روبل سے لے کر تین لاکھ روبل کی آمدنی تک ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اشتراکی روس میں اگر ایک طرف پانچ سو روبل کی آمدنی رکھنے والے انسان بستے ہیں تو دوسری طرف اسی ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی قانونی آمدنی تقریباً تین لاکھ روبل ہے ۔ جمہوری ممالک کا بھی یہی حال ہے جہاں بے روک ٹوک ہر شخص کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اپنی آمدنی مسلسل بڑھتا چلا جائے یہاں تک کہ جب یہ نظام معیشت اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو یہ حال ہو جاتا ہے کہ دولت ہر طرف سے کھنچ کھنچ کر صرف چند لوگوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے اور کاروبار پر ان کی اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے ۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page