سوشلزم اور اسلام
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
باقی عوام کے لئے اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش باقی نہیں رہتا کہ ان ہی چند سرمایہ داروں کے ملازم بن جائیں اور ان کی ایجنسی لے کر ان کے کارخانہ کا بنا ہوا مال فروخت کرتے پھریں۔ چنانچہ ہندوستان کے صنعتی سرمایہ کا پچاس فیصد حصہ صرف نو خاندانوں کے قبضہ میں ہے۔ یہاں ایک سو جوٹ کی ملیں چل رہی ہیں۔ لیکن ان کا پورا منافع صرف سات افراد کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ ۴۴۲ کوئلہ کی کمپنیاں ہیں جن کو ۱۸ سرمایہ دار ساڑھے دس کروڑ روپیہ کے سرمایہ سے چلا رہے ہیں۔ چائے پیدا کرنے والی کمپنیوں کی تعداد ۱۱۹ ہے۔ لیکن ان کا انتظام اور کنٹرول صرف سترہ خائتی کمپنیوں کے ذمہ ہے۔ بمبئی میں ۳۹ کپڑے کی ملیں ہیں۔ لیکن ان کا تختہ موازنہ (Balance sheet) بتاتا ہے کہ ستر فیصد نفع مینجنگ ایجنٹوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔ اور صرف تیس فیصد حصہ داروں میں تقسیم کے لئے بچتا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ملکی صنعت سے جو آمدنی ہوتی ہے اس کی مقدار ۳۵۰ کروڑ روپیہ سالانہ ہے۔ مگر اس منافع کا ستر فیصد حصہ صرف ۵ بڑے سرمایہ داروں کی جیبوں میں جا رہا ہے لہ یہی حالت ان تمام ملکوں کی ہے جہاں بے قید تجارت کا اصول جاری ہے۔ اسلام کا طریقہ اسلام قومی ملکیت اور بے قید ملکیت دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل راستہ تجویز کرتا ہے۔ وہ انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے اور کھلے لین دین کے اس طریقہ کو باقی رکھتا ہے جو ابتدا سے انسانوں کے درمیان معاشی سرگرمی کی فطری بنیاد رہا ہے۔ البتہ وہ کچھ پابندیاں اور کچھ تحفظات تجویز کرتا ہے تاکہ تقسیم دولت کا توازن بگڑنے نہ پائے۔ اور ہر شخص کو کم از کم زندگی کی ناگزیر ضرورتیں فراہم ہوتی رہیں۔ اس سلسلہ میں اسلام کی پہلی کوشش یہ ہے کہ دولت کے ایک طرفہ بہاؤ کو روکا جائے اور ایسے تمام کاروبار کو قانوناً بند کر دیا جائے جس میں ایک شخص کا فائدہ اور بہت سے لوگوں کا نقصان ہوتا ہو۔ اس سلسلہ میں اسلام کا قانون سب سے پہلے سود کی تمام شکلوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ سود کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جس کے پاس سرمایہ ہو اس کو ہمیشہ کے لئے خوش حالی کا پٹہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader