اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھ دیا جائے اور ہر قسم کے خطرات اور نقصان سے اس کو مستقل طور پر محفوظ کر دیا جائے ۔ ایک پیشہ ور کا کام بند ہو سکتا ہے ، ایک ملازم کی ملازمت ختم ہو سکتی ہے، ایک تاجر کا کاروبار فیل ہو سکتا ہے ، مگر سودی قرض وہ کاروبار ہے جس میں گھاٹے کا کوئی امکان نہیں ۔ وہ ہمیشہ نفع لے کر واپس آتا ہے ۔ اگر قرض لینے والے کا روزگار ختم ہو جائے تو عدالتیں اس کے گھر کا اثاثہ بکوا کر اصل مع نفع سود خوار کے گھر پہنچادیتی ہیں ۔ سودی کاروبار کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے زمانہ کا مہاجنی سسٹم تو یقیناً برا تھا مگر نئے طرز کے بنکوں کی سود خواری عین جائز بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے ۔ مگر در حقیقت یہ ایک دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ موجودہ زمانہ میں سائنس کی ایجادات نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ چیزوں کی تیاری کے لئے بہت بڑے بڑے کارخانے قائم کئے جائیں، مگر بڑے بڑے کارخانے بنانے کے لئے بے حساب روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے جس کو مہیا کرنا کسی ایک شخص کے بس میں نہیں ہوتا۔ روپیہ کی اس فراہمی کے لئے موجودہ زمانہ میں بینکنگ کا طریقہ رائج کیا گیا ہے ۔ عوام کو سود کا لالچ دے کر سارے ملک کی دولت چند بنکوں میں اکٹھا کر لی جاتی ہے ۔ اس طرح چند سرمایہ دار سارے ملک کی دولت کم شرح سود پر جمع کر لیتے ہیں اور پھر زیادہ شرح سود پر اس کو کارخانہ داروں کو قرض دیتے ہیں ۔ اس زمانے میں جتنے کارخانے قائم ہوتے ہیں ۔ ان میں اصل مالکوں کا سرمایہ بہت کم ہوتا ہے ۔ بیشتر سرمایہ ان ہی سودی قرنوں کا ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک بنک 2 ½ فیصد سود کی شرح پر عوام سے پچاس لاکھ روپیہ وصول کرتا ہے ، پھر اسی روپیہ کو وہ کپڑے سینے کی مشین کے ایک کارخانہ کو نو فیصد سود کی شرح پر قرض دیتا ہے ، جس کا سالانہ سود چار لاکھ پچاس ہزار روپیہ ہوا ۔ یہ رقم کوئی کارخانہ دار اپنے گھر سے نہیں دیتا بلکہ اپنے یہاں کی بنی ہوئی مشینوں کی قیمت مقرر کرتے وقت وہ سود کی اس مقدار کو بھی اس پر چڑھا دیتا ہے ۔ اس طرح چیزیں سودی رقم کے بوجھ سے دبی ہوئی بازار میں آتی ہیں، اور تمام خریدار جنھوں نے اپنا روپیہ جمع کر کے صنعتوں کے لئے سرمایہ فراہم کیا تھا ، ان ہی کے ہاتھ سامان بیچ کر اس سود کی رقم وصول کی جاتی ہے ۔ بینک بظاہر تو یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ اپنے کھاتے داروں کو ان کے جمع کئے ہوئے پچاس لاکھ کے بدلے 7 ½ فیصد کی شرح سے ایک لاکھ پچیس ہزار روپیہ سالانہ سود ادا کر رہا ہے ۔ مگر در حقیقت یہ رقم اس لوٹ کا چوتھائی حصہ ہوتی ہے جو بینک اپنے مقروض کارخانہ دار کی معرفت خود عوام سے ساڑھے چار لاکھ روپیہ کے بعد وصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader