اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
کر چکا ہے۔ اس طرح سودی معاشیات کے نتیجہ میں خود عوام سے حاصل کی ہوئی دولت اس بات کا ذریعہ بن رہی ہے کہ دولت کے بہاؤ کے رخ کو عوام کے بجائے چند سرمایہ داروں کی طرف کر دیا جائے۔ اسلام میں بینگنگ ممنوع نہیں ہے۔ بینکنگ اپنی ابتدائی صورت میں ایک سادہ اقتصادی تدبیر کا نام ہے۔ بڑا کارو بار بڑا سرمایہ چاہتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کے پاس بیک وقت بڑا سرمایہ موجود نہیں ہوتا اس لیے افراد یہ کرتے ہیں کہ اجتماعی سرمایہ کاری سے وہ اپنی مالیاتی کمی کو پورا کرتے ہیں۔ اسی کا نام بینگنگ ہے۔ بینک بہت سے لوگوں کی امانتوں (Deposits) کو جمع کرکے بڑا سرمایہ اکٹھا کرتا ہے اور پھر لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ مخصوص شرائط پر اس سے قرض لے کر بڑے بڑے کاروبار کریں۔ عام بینکوں میں سرمایہ کاری کی بنیاد سود پر ہے۔ عام بینک یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ جمع کرنے والے افراد کو کم شرح سود دے کر قرض لینے والوں سے بڑی شرح سود وصول کرتے ہیں۔ اسلام کے مطابق بینگنگ کی صحیح بنیاد مضاربت ہے۔ مضاربت کا طریقہ تجارتی عمل میں معاون بننے کے ساتھ دولت کی گردش کو پھیلاتا ہے۔ سود کا طریقہ بھی تجارتی عمل میں معاون ہے۔ مگر اس کی معاونت اس قیمت پر ہوتی ہے کہ دولت کی گردش سمٹ جائے ، دولت کھینچ کھینچ کر چند ہاتھوں میں پہنچنے لگے ۔ اسلام میں سودی کاروبار نا جائز ہے۔ کیونکہ سود کا نظام ایک یا چند اشخاص کے نفع کو یقینی بنانے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اسلام میں مضاربت کا طریقہ رکھا گیا ہے جو طرفین کے فائدہ اور نقصان پر مبنی ہے۔ سود کے اصول پر کام کرنے سے چند لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور مضاربت کے اصول پر کام کرنے سے تمام لوگوں کو۔ سود اگر استحصال (Exploitation) کا آلہ ہے تو مضاربت عمومی نفع بخشی کی صورت ہے۔ مضاربت میں ایک شخص اپنا روپیہ دوسرے کو دیتا ہے۔ اور دوسرا شخص اقرار کرتا ہے کہ وہ روپیہ کے ساتھ اپنی محنت کو شامل کر کے جو نفع کمائے گا اس میں سے ایک مقرر حصہ (مثلاً نصف) دوسرے شخص کو دیتا رہے گا۔ اس معاملہ میں اصل رقم کو راس المال، رقم دینے والے کو رب المال اور رقم لے کر کام کرنے والے کو مضارب کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader