اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی نظام اقتصادیات میں بینک کی حیثیت مضارب کی ہوگی۔ وہ لوگوں کی امانتیں جمع کرے گا اور پھر اس سے کاروباری قرضے دے گا۔ اسلامی نظام اقتصادیات میں بینک ہوگا مگر سرمایہ دارانہ نظام سے مختلف۔ اسلام نے چونکہ سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ اس بنا پر اگر اسلامی بینک بنایا جائے تو اس میں لین دین کی بنیاد نفع میں شرکت ہوگی نہ کہ سود جس پر موجودہ زمانہ میں بینکنگ کا نظام چل رہا ہے۔ سودی نظام میں قرض دینا ایک تجارت ہے۔ کیوں کہ وہ ایک مقررہ شرح کے مطابق اضافہ ہو کر قرض دینے والے کو لوٹتا ہے۔ مگر اسلامی معاشرہ میں قرض دینا ایک انسانی عمل ہے نہ کہ کاروبار کی عمل۔ اسلامی معاشرہ میں ایک شخص دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے تاکہ اس کی ضرورت پوری ہو، اور بعد کو وہ اس کی اصل رقم اسے لوٹا دے ۔ اس کے برعکس سودی نظام میں قرض اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ یقینی نفع کے ساتھ قرض دینے والے کی طرف لوٹے۔ اسلامی شریعت میں تجارتی قرضہ کو مضاربت کہا جاتا ہے۔ یعنی نفع نقصان دونوں میں شرکت کی بنیا د پر قرض دینا۔ الف کی رقم پر جیم ایک کاروبار کرتا ہے۔ اگر اس میں اس کو نفع ہو تو حسب معاہدہ دونوں اس کے نفع کو تقسیم کر لیں گے ۔ اور اگر نقصان ہو جائے تو جتنا نقصان ہوا ہے وہ قرض دینے والے کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک انفرادی شخص اگر دوسرے انفرادی شخص کو قرض دے تو اس میں یقیناً نفع اور نقصان دونوں کا امکان ہے۔ لیکن اگر یہ کام اجتماعی بینکوں کے ذریعہ ہو تو عملاً نقصان صفر کے برابر ہو جاتا ہے۔ بینک کی صورت میں ہزاروں آدمیوں کا سرمایہ ایک ادارہ میں جمع ہو گا اور پھر سینکڑوں اور ہزاروں تاجروں کو بطور قرض دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں اگر ان میں سے چند کو نقصان ہو جائے تو بینک کا مجموعی کاروبار پھر بھی نفع میں رہے گا۔ اس کا نقصان غیر مئی ہو کر رہ جائے گا۔ اس کو انشورنس کمپنیوں کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انشورنس کمپنیاں حادثات اور نقصانات کا بیمہ کرتی ہیں ، اس کے باوجود ان کو نفع ہوتا ہے۔ حالاں کہ اگر ان کے تمام گاہکوں کو نقصان اور حادثہ پیش آنے لگے تو فائدہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملی طور پر نقصان یا حادثہ چند ہی افراد کو پیش آتا ہے، بیشتر لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ زندگی کے اسی قانون کا فائدہ انشورنس کمپنی کو ملتا ہے اور چند افراد کے معاملہ میں نقصان اٹھانے کے باوجود آخری طور پر نہیں نفع حاصل ہوتا ہے۔ انفرادی مضاربت میں یقیناً گھاٹے کا بھی اندیشہ ہے مگر بینکوں کے ذریعہ اجتماعی مضاربت اسی طرح عملاً نفع بخش بن جاتی ہے جیسے موجودہ سودی بینکنگ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader