Urdu book · سوشلزم اور اسلام

اسلام کا طریقہ

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

مضاربیت کے اصول پر بینکنگ کا نظام قائم کرنے سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ سماج دولت کے اس ایک طرفہ بہاؤ کے نقصان سے بچ جاتا ہے جو سودی طریق معیشت کا لازمی خاصہ ہے۔ اور جس کی وجہ سے دولت کی افراط کے باوجود دنیا سے غریبی ختم نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سماج کو وہ فائدہ بھی پوری طرح ملتا ہے جس کے لیے بینک کا طریقہ رائج کیا گیا ہے ۔ ۲۔ دوسری چیز جس کو اسلام کا قانون حرام قرار دیتا ہے وہ جوا ہے۔ جس کی مختلف شکلیں اس زمانہ میں رائج ہیں۔ جو جے میں یہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ مل کر مستقبل کے متعلق بازی لگاتے ہیں، اور اس بازی میں شریک ہونے کے لیے ایک مقررہ رقم اس شخص کے پاس جمع کرتے ہیں جو اس کاروبار کا ناظم ہوتا ہے۔ پھر اتفاق سے جس کی اٹکل صحیح نکلتی ہے اس کو ایک طے شدہ رقم بطور انعام دیدی جاتی ہے۔ اور بقیہ لوگوں نے جو رقم جمع کی تھی اس کو کاروبار کا ناظم ہڑپ کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ طریقہ دولت کو عوام سے کھینچتا ہے بغیر اس کے کہ اس کے بدلے انہیں کچھ دیا گیا ہو۔ اور اس کو چند لوگوں کے حوالہ کر دیتا ہے بغیر اس کے کہ اس پر ان کا کوئی حق قائم ہوتا ہو۔ مثال کے طور پر بیمہ ایک جوے کا کاروبار ہے۔ بیمہ کمپنیاں اس بات کا ذمہ لیتی ہیں کہ آپ کی زندگی یا جائیداد کو کوئی حادثہ پیش آئے تو وہ اس کا مقررہ معاوضہ ادا کر دیں گی ۔ اس ذمہ کے بدلے وہ ہر شخص سے پیشگی ایک رقم وصول کرتی ہیں ۔ اگر حادثہ پیش آ جائے تو آپ کو وہ مقررہ رقم دیدی جائے گی۔ اور حادثہ نہ پیش نہ آئے تو وہ رقم کمپنی کی ملکیت ہوگی جس کو ذمہ داری قبول کرنے کے معاوضہ میں پہلے وصول کیا گیا تھا۔ چونکہ عام حالات میں حادثے کا پیش نہ آنا حادثات کے پیش آنے کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کمپنی چند آدمیوں کو کچھ رقم دے کر بیشتر آدمیوں کی بڑی رقم پر قبضہ کر لیتی ہے۔ ہندوستان میں اور نٹیل گورنمنٹ سکیورٹی لائف انشورنس کمپنی لمیٹڈ بہت بڑی بیمہ کمپنی ہے۔ جو ۱۸۷۴ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس نے ۱۹۵۲ء تک مختلف اشخاص اور اداروں کو جو رقمیں ادا کیں ہیں ان کی مقدار ۳۶،۰۲۲،۲۸۲ روپے ہے۔ مگر اس دوران میں خود اس نے جو سرمایہ حاصل کیا ہے وہ اخراجات اور سالانہ منافع کی ادائیگی کے بعد ۱۳،۷۹۷،۶۹۹ روپے ۱۹۵۳ میں ہے اس کے علاوہ ۲۲۳،۲۲۲۰۸۳۹ روپے اس کے پاس مستقل فنڈ کی شکل میں موجود ہے لے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page