اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
بیمہ کنٹرولر حکومت ہند کی سالانہ رپورٹ برائے ۱۹۵۳ء کے مطابق ہندو ستان کی ملکی اور غیر ملکی انشورنس کمپنیوں کو زیر نظر سال میں اس کار و بار سے جو آمدنی ہوئی ہے وہ ۳ کروڑ ۸۶ لاکھ روپیہ ہے۔ اور اس مدت میں واجبات (Claims) اور معاوضہ دست برداری کی صورت میں جو رقمیں ادا کی گئی ہیں۔ ان کی مقدار ۳ کروڑ ۴۱ لاکھ ہے۔ یعنی پبلک سے جتنا روپیہ وصول کیا گیا ہے اس کا صرف آدھا حصہ اسے واپس کیا گیا ہے۔ اور یہ آمدنی نظم و نسق کے اخراجات کے بعد ہے جس پر پورے کاروبار کا ۷۲ء ۲ فیصد خرچ ہوا ہے ۔ مختلف قسم کی پالیسیوں سے جو واجبات ادا کئے گئے ہیں، ان کی آمد و خرچ کا فرق حسب ذیل ہے: آگ کا بیمہ پریمیم کی آمدنی کا ۳۵ فیصد بحری بیمہ پریمیم کی آمدنی کا ۵۶ فیصد متفرق پریمیم کی آمدنی کا ۵۰ فیصد مذکورہ بالا حساب کے مطابق ہندوستان کی بیمہ کمپنیوں نے " انشورنس " کے نام پر کثیر رقم وصول کی ہے اور پھر کسی واقعی استحقاق کے بغیر محض ہیر پھیر کے نتیجہ میں ہر ایک سو میں سے ۵۳ روپیہ انھوں نے خود رکھ لیا ہے اور صرف ۴۷ روپیہ ان حق داروں کو ادا کیا ہے جن کی جیب سے یہ پورے سور و پئے نکالے گئے تھے۔ جوئے کی ایک قسم سٹہ (Speculation) ہے جس نے اس زمانہ میں بڑی وسعت اختیار کرلی ہے۔ سٹہ کا مطلب یہ ہے کہ چند لوگ جن کے پاس روپیہ ہو اور بڑے بڑے بنک جن کے لئے ادائیگی کی ضمانت لے سکتے ہوں، محض بولی اور ٹیلیفون کے ذریعہ غائبانہ طور پر چیزوں کو خریدتے اور بیچتے رہیں۔ ایک سامان جو کلکتہ میں تیار ہو کر مارکیٹ میں آنا چاہتا ہے، اس کو بمبئی میں بیٹھا ہوا ایک شخص محض ٹیلیفون کے ذریعہ پچاس لاکھ میں خرید لے اور پھر ٹیلیفون ہی پر دوسرے سٹہ باز کے ہاتھ ساٹھ لاکھ میں بیچ دے۔ پھر یہ دوسرا شخص بھی سامان کو دیکھے اور اس کو ہاتھ لگائے بغیر تیسرے شخص کے ہاتھ ستر لاکھ میں فروخت کر دے ۔ اسی طرح غائبانہ سودے کا سلسلہ چلتا رہے ۔ یہاں تک کہ آخری بار جس کے ہاتھ فروخت ہو کر وہ بازار میں پہنچے تو اس کا پچاس لاکھ روپیہ۔ کے سامان کی قیمت ایک کروڑ روپیہ ہو چکی ہو، اس طرح مصنوعی طور پر قیمتیں چڑھتی ہیں اور اصل خریدار اور بیچنے والے کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader