حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں جن کے تحت اس کے سارے واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ اس میں انسانی کوششوں سے کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ انسان کے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ کائنات کے قوانین کو معلوم کرکے انھیں استعمال کرے۔ اس طرح طبعی دنیا میں انسان نے جتنی باتیں معلوم کی ہیں وہ دراصل نئی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو پہلے سے موجود تھیں ۔ انسان نے انھیں ایجاد نہیں کیا بلکہ صرف دریافت کیا ہے ۔ ان کو ایجاد کے بجائے انکشاف کہنا زیادہ صحیح ہوگا یہی بات ہے جس کو فریڈرش انگلس نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے: " کائنات کا مادی تصور یہ ہے کہ فطرت کو کسی خارجی آمیزش کے بغیر ٹھیک ویسا ہی سمجھا جائے جیسی کہ وہ ہے ۔" یہ مادی دنیا کی تشریح ہوئی ۔ اب سوال یہ تھا کہ عالم انسانی کی حقیقت کیا ہے ۔ وہ کون سی طاقت ہے جو زندگی کی سرگرمیوں کو وجود میں لاتی ہے ۔ تاریخ کے اتار چڑھاؤ کن اسباب کے تحت پیش آتے ہیں ۔ انسان کے ہاتھوں مسلسل جو واقعات رونما ہورہے ہیں ان کا محرک اصلی کون ہے ۔ کیا ان کی بھی کوئی اندرونی منطق ہے اور وہ خود اپنے ذاتی قوانین کے تحت واقع ہوتے ہیں یا انسان ان کا خالق ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کیا انسان کی کارکردگی کی بھی وہی نوعیت ہے جو مادی دنیا کی کارکردگی کی ہے ۔ مادی دنیا اور انسانی سماج دونوں ایک ہی نظام کے تحت حرکت کرتے ہیں یا دونوں کا الگ الگ اصول ہے ۔ اس طرح یہ سوال بالآخر روح اور مادہ کا سوال بن گیا۔ یعنی یہ کہ سماجی حالات سے باہر کا کوئی محرک ــــ انسان کا ذہن یا کسی بالاتر قوت کا ارادہ ــــ ان واقعات کو وجود میں لاتا ہے یا مادی دنیا کی طرح وہ خود اپنے لگے بندھے قانون کے تحت وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ انگلس کے بقول : " فلسفہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ فکر اور ہستی یا روح اور فطرت میں کیا باہمی تعلق ہے۔ اس سوال کے جواب کی بنا پر فلسفیوں کے دو بڑے گروہ بن گئے ہیں جن لوگوں نے دعویٰ کیا کہ روح فطرت پر مقدم ہے وہ عینیت پسند (Idealist) کہلاتے ہیں ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader