اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ اپنی محنت اور اپنے مال کا کوئی واقعی حصہ صرف کے بغیر مفت میں نفع کے حقدار بن جاتے ہیں اور پبلک کو مجبور کرتے ہیں کہ جس چیز کو وہ بازار سے دس روپیہ میں خرید سکتے تھے اس کو بیس روپے میں خرید کر ان سرمایہ داروں کا لازمی حصہ ادا کریں۔ جوئے کی ایک شکل معمہ اور لاٹری ہے۔ اس زمانہ میں معے کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ تقریبا ہر روزانہ اخبار اور رسالے میں آپ معے کا ایک اشتہار دیکھ سکتے ہیں۔ معے کی حقیقت یہ ہے کہ دو آدمی جن میں سے ایک وہ ہوتا ہے جو معے کا اعلان کرتا ہے اور دوسرا وہ موہم شخص جس کو اتفاق سے انعام ملنے والا ہے، مل کر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ روپے کے انعام کا اعلان کرتے ہیں لوگ اس بڑی رقم کی لالچ میں کوپن بھرنا شروع کرتے ہیں۔ اور ہر کوپن کے ساتھ ایک روپیہ یا اس سے زیادہ رقم معے اور لاٹری کے دفتری ڈال کرتے ہیں۔ ایک آدمی بسا اوقات ایک ایک سو کوپن خریدتا ہے، کیونکہ اسے یہ امید لگی رہتی ہے کہ سو پچاس روپے خرچ کر کے وہ چند دن میں لاکھوں روپے حاصل کر سکتا ہے۔ اس طرح کسی حقیقی خدمت کے بغیر صرف ایک مہینہ میں ایک شخص لاکھوں روپے جمع کرلیتا ہے۔ جو ہزاروں لاکھوں کی جیب سے نکل کر آتا ہے۔ اس طرح پبلک کو بیوقوف بنا کر ہر مہینے بے شمار روپئے جمع کئے جاتے ہیں۔ اور پھر چند آدمی ان کو بانٹ لیتے ہیں۔ معمہ یا لاٹری کس قدر تباہ کن ہے، اس کا اندازہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ مدراس میں ۱۹۵۲ء میں معموں کے ۲۲ مقابلے جاری تھے، ایک خاندان بہت دنوں سے معے کا حل بھیج رہا تھا۔ مگر اسے کوئی انعام نہیں ملا۔ ہر ناکامی کے بعد دوبارہ انعام حاصل کرنے کی امید میں وہ کوپن بھرتا رہا۔ یہاں تک کہ جوئے کے اس کھیل میں جب اس کا سب کچھ لٹ گیا تو پورے خاندان نے ایک ساتھ خود کشی کرلی۔ یہی حال لاٹری کا بھی ہے۔ اس قسم کی تمام چیزوں کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں لازماً ایک فریق کا فائدہ اور دوسرے فریق کا نقصان ہے۔ یہ کاروبار کچھ لوگوں کے لئے تو سوسائٹی کی کسی حقیقی خدمت کے بغیر روپیہ کا ڈھیر لگا دیتا ہے اور دوسرے بہت سے لوگوں کو کسی حقیقی سبب کے بغیر مفلس بنا دیتا ہے۔ ۳۔ اسی طرح اسلام ذخیرہ اندوزی (Hoarding) کو بھی ختم کر دینا چاہتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ ایک تاجر جس کے پاس ضروریات زندگی میں سے کسی چیز کا اسٹاک ہو وہ اس کو بیچنے کے بجائے روک لے۔ یا کسی کے پاس روپیہ ہو اور وہ دوسروں سے سامان خرید کر اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader