Urdu book · سوشلزم اور اسلام

اسلام کا طریقہ

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

گودام میں جمع کرلے۔ اس طرح بازار کے اندر مصنوعی طور پر ان کی قلت ہو جائے اور ضرورت مند لوگ زیادہ دام پر خریدنے کے لئے مجبور ہو جائیں ۔ اس طرح جب قیمتیں خوب چڑھ جائیں تو وہ اپنا اسٹاک بازار میں لے آئے اور مہنگے داموں فروخت کر کے بے شمار منافع حاصل کرلے ۔ جولائی ۱۹۵۵ء میں ہندستان کے مشرقی علاقہ میں جو زبردست سیلاب آیا تھا اور جس میں بہت سے شہروں اور بستیوں کو پانی نے اس طرح گھیر لیا تھا کہ وہ بقیہ دنیا سے بالکل کٹ گئے۔ اس موقع پر دکانداروں نے عام طور پر اپنا اسٹاک روک لیا اور ضرورت کی چیزیں نہایت مہنگے داموں فروخت کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جلانے کے لئے مٹی کا تیل، جو عام حالات میں چار آنے فی بوتل فروخت ہوتا ہے وہ ایک روپیہ چار آنے بوتل بکنے لگا ۔ اس طریقہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی خریداری میں اصل نرخ کے مطابق پبلک کی جیب سے ایک کروڑ روپیہ نکلنے والا تھا ، وہ بڑھے ہوئے نرخ کی صورت میں پانچ کروڑ اور دس کروڑ کے بقدر نکل کر سرمایہ داروں کے پاس چلا جاتا ہے ۔ اس کاروبار میں چند آدمی لکھ پتی سے کروڑ پتی بن جاتے ہیں ۔ مگر بقیہ آبادی کے حصہ میں افلاس کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ یہی طریقہ تھا جس کے مطابق ۱۹۴۳ء میں بنگال کے اندر وہ ہولناک قحط بڑا جس کو انسان کالا یا ہوا قحط (Man-made famine) کہا جاتا ہے ۔ اس قحط کے اسباب میں دوسری وجہوں کے ساتھ ایک سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ تاجروں نے بڑے پیمانہ پر غلہ کا ذخیرہ کر لیا تھا۔ خود حکومت کے گوداموں میں کروڑوں من چاول پڑا ہوا تھا ۔ مگر قیمتیں اتنی زیادہ تھیں کہ عوام خرید نہیں سکتے تھے ۔ اس طرح مصنوعی طور پر قحط کی کیفیت پیدا ہوگئی اور لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل گئیں ۔ گورنمنٹ کے مقرر کردہ وڈ ہڈ کمیشن (Woodhead Commission) کی رپورٹ کے مطابق اس قحط میں بنگال کے پندرہ لاکھ آدمی مر گئے ۔ اسی زمانہ میں کلکتہ یونیورسٹی نے بھی غیر سرکاری طور پر معلومات جمع کی تھیں اس کی رپورٹ کے مطابق اس مصنوعی قحط میں مرنے والوں کی تعداد ۳۵ لاکھ ہے لیو اسی طرح اسلام آمدنی حاصل کرنے کے ان تمام طریقوں کو بھی بند کرتا ہے جس میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page