اسلام کا طریقہ
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
شخص کسی کو اس بنا پر گاہک نہیں بناتا کہ وہ ضرورت کی ایک چیز بیچ رہا ہے اور دھڑا دھڑ اپنی ضرورت کے لئے اسے خرید رہا ہے، بلکہ خرید و فروخت کی بنیاد محض سطحی کشمکش ہوتی ہے۔ اس طرز کے کاروبار میں دو نقصان ہیں۔ ایک یہ کہ ظاہری چیزوں سے فریب کھا کر آدمی معمولی اور کم قیمت کا سامان زیادہ دام دے کر خرید لیتا ہے۔ اور تاجر بھی سامان کو اچھا بنانے کے بجائے جھوٹے پروپیگنڈے میں اپنے وقت اور پیسہ کو ضائع کرتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ آدمی جذباتی ہیجان میں پڑ کر اپنی ضرورت کو صحیح طور پر نہیں سمجھتا اور ایک ایسی چیز کی خریداری میں اپنا روپیہ لگا دیتا ہے جس کی حقیقہ اس کو ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً اشتہار کے لیئے عورتوں کی تصویریں استعمال کرنا جس نے اس زمانہ میں بہت بڑے فتنہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بڑے بڑے تاجر عورتوں کی عیاں تصویریں بنواتے ہیں اور انہیں مصوروں سے خرید کر نہایت وسیع پیمانہ پر لیبل، اخبارات اور سائین بورڈ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں۔ اور اس طرح عوام کے سطحی جذبات کو بھڑکا کر اپنی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ گویا پبلک کو ایک صابون کا گاہک اس بنیاد پر نہیں بنایا جاتا کہ وہ اچھا ہے اور بہتر کام کرتا ہے بلکہ یہ کہ ایک ایکٹرس یا کوئی فرضی تصویر اس کو اپنے نازک ہاتھوں میں لے کر نہارہی ہے۔ اسی طرح سینما، شراب، کلب، رقص و سرود، اور آرٹ سوسائٹیوں کے ذریعہ پبلک کا بے شمار روپیہ چند ہوشیار تاجروں کے قبضہ میں چلا جاتا ہے۔ ان کا شکار صرف وہی لوگ نہیں ہوتے جن کی آمدنیاں بہت زیادہ ہیں۔ ان چیزوں کا پروپیگنڈا اس طرح کیا گیا ہے اور لوگوں کو ایسا چسکا لگا دیا گیا ہے کہ معمولی آمدنی والے بھی بیوی بچوں کا حق ادا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی ”ٹاکیز“ میں جا کر فلمی ستاروں کا حق ادا کریں یا کسی شراب کے ٹھیک دار کی تجوری بھرنے کے لئے ہر روز شام کو اپنی جیب خالی کر دیا کریں۔ یہ سینما جس کو ”آرٹ“ کا خوبصورت نام دیا گیا ہے، دراصل چند نہایت چالاک قسم کے مردوں اور عورتوں کی تجارت ہے جن کو فلمی ستارے اور ڈائرکٹر پروڈیوسر کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عشرت کدے بنا کر ان میں عیاش کرتے ہیں۔ اور اس عیاشی کی تصویریں سکرین پر دکھا کر غریب عوام سے اس کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے پاس رہنے کے لئے عمدہ مکان نہیں ہے جن کو اپنی بیوی بچوں میں خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ جو زرق برق کاروں کو حسرت سے دیکھتے ہیں اور کبھی اس میں بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا۔ جن کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader