سوشلزم اور اسلام
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
پہاڑی مناظر کی سیر کر سکیں۔ جن کو ایسی بیوی حاصل نہیں ہے جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو ، جو پیانو بجائے اور عمدہ گانے سنائے۔ جن کو زمانہ نے لذتوں سے محروم کر رکھا ہے۔ جن کے سینے آرزوؤں کا قبرستان ہیں۔ یہ تمام لوگ سینما کا ٹکٹ خرید کر ان مناظر کی تصویریں دیکھنے جاتے ہیں جن کو وہ اپنی زندگی میں حاصل نہ کر سکے۔ اور اس طرح دبے ہوئے احساسات کو تھوڑی دیر کے لیے تسکین دے کر واپس چلے آتے ہیں۔ شاہ فاروق کو لوگ برا کہتے ہیں کہ وہ مصری عوام سے ٹیکس وصول کر کے محلوں میں عیش کرتا تھا۔ مگر یہ فلمی دنیا کے رانی اور راجے جو انسان کے نازک جذبات اور اس کی محروم تمناؤں کی تجارت کرتے ہیں ، یہ شاہ فاروق سے بھی زیادہ بڑے قسم کے لٹیرے ہیں۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ سینما گھر ہیں۔ جن میں سالانہ دس ارب اشخاص فلم دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس سے فلمی صنعت کو تقریباً چار سو کروڑ ڈالر یعنی چوراسی ارب روپیہ وصول ہوتا ہے، ۱۹۵۳ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ فلم تیار کرنے والے ملکوں کے نام حسب ذیل ہیں:- ریاست ہائے متحدہ امریکہ ۳۴۴ فلمیں جاپان بھارت ہندوستان میں سینما گھروں کی تعداد تین ہزار پانچ سو ہے ، جن میں روزانہ ۲۰ لاکھ آدمی سینما دیکھتے ہیں یہ اگر فی آدمی صرف ایک روپیہ خرچ کا اوسط رکھا جائے تو ایک سال کے اندر عوام کی جیب سے تقریباً ایک ارب روپیہ نکل کر چند پروڈیوسروں اور ڈائرکٹروں اور ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی جیب میں پہنچ جاتا ہے ، جو سینما نہ دیکھنے کی صورت میں ضروریات زندگی میں خرچ ہو کر عوامی خوش حالی کا سبب بنتا۔ کفالت عامہ ۵- اوپر اسلام کے وہ قوانین درج کئے گئے ہیں جو ناجائز طریقہ پر دولت کے سمٹاؤ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader