Urdu book · سوشلزم اور اسلام

کفالتِ عامہ

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

روک سکتے ہیں۔ مگر خواہ کتنے ہی جائز طریقہ پر کام کیا جائے دولت سمٹنے کے عمل کو بالکل ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی آبادی میں بہرحال ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ خوش حال ہوں گے اور کچھ لوگ حاجت مند۔ کچھ لوگ محروم ہوں گے اور کچھ آدمیوں کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت جمع ہو جائے گی۔ اس صورتِ حال کے علاج کے لئے اسلام نے حکومت کو قانونی طور پر اس بات کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ اپنے علاقہ کے تمام ناداروں اور اپاہجوں کے لئے کھانا کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم کا مفت انتظام کرے۔ اس فنڈ کی سب سے بڑی مدد زکوٰۃ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ امیر (صاحب نصاب) ہیں ان سے زکوٰۃ وصول کرکے غریب لوگوں میں تقسیم کردی جائے۔ اس مالیہ کی حقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لفظوں میں بیان فرمائی ہے: توخذ من اغنياءكم یعنی زکوٰۃ اسلامی سوسائٹی کے امیر لوگوں سے وترد الى فقراءكم لی جاتی ہے اور اس کے غریبوں میں تقسیم کردی جاتی ہے۔ دنیا میں جتنے محصول رائج ہیں، وہ سب آمدنی کے اوپر لگائے جاتے ہیں۔ مگر زکوٰۃ حکومت کا ایک ایسا مالیہ ہے جو سرمایا پر لگایا گیا ہے۔ اسلام نے ہر قسم کی ملکیت کا ایک معیار مقرر کر دیا ہے۔ جس کے پاس بھی اس معیار سے زیادہ دولت پائی جائے گی اس سے ہر سال زکوٰۃ کا لازمی مالیہ وصول کیا جائے گا۔ جن مختلف سامانول پر زکوٰۃ واجب ہے ان کی شرح حسب ذیل ہے: زرعی پیداوار .ا فیصد جب کہ وہ بارانی زمینوں سے حاصل ہو۔ ۵ فیصد جب کہ وہ مصنوعی آبپاشی سے حاصل ہو۔ نقدی اور سونا چاندی: ۲٪ فی صد اموال تجارت: ۲٪ فی صد مویشی: (اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور چہان کی مانند ہوا جانوروں کی زکوٰۃ کی مختلف صورتیں ہیں۔ جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں بسیرۃ النبی مصنفہ مولانا سید سلیمان ندوی جلد پنجم صفحہ ۱۶۰۔ ۱۶۵ میں اس کا مفصل نقشہ دیکھا جاسکتا ہے۔ معادن (کان سے نکلنے والی چیزیں مثلاً لوہا، پٹرول گندھک وغیرہ) ۲ ۲ فیصد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page