کفالتِ عامہ
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
رکاز (دفینے) ۲۰ فیصد کارخانوں کے اموال۔ ۲۱/۲ فیصد یہ زکوٰۃ اسلامی قانون معاشیات کی ایک عظیم الشان دفعہ ہے اور اگر کوئی ملک اسلامی نظریۂ زندگی کو قبول کرکے اپنے ملک میں یہ قانون نافذ کرلے تو وہاں سے افلاس، گداگری اور بہت سے جرائم کا کلی خاتمہ ہو جائے گا۔ مثلاً ہندستان کو لیجئے۔ پلاننگ کمیشن کے اندازہ کے مطابق یہاں حکومت کی املاک کو چھوڑ کر نجی طور پر لوگوں کے پاس جو سامان اور پیدا واری اِلتے ہیں، ان کی قیمت تقریباً ایک سوپندرہ ارب روپیہ ہے۔ جس کی زکوٰۃ دو ارب ساڑھے ستاسی کروڑ روپیہ ہوتی ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار ساڑھے پانچ کروڑ ٹن ہے، جس کو اگر نصف بارانی اور نصف غیر بارانی مان لیا جائے تو اس کی زکوٰۃ اکتالیس لاکھ پچیس ہزار ٹن ہوگی۔ جس کی قیمت اگر دس روپئے من رکھی جائے تو ایک ارب پندرہ کروڑ پچاس لاکھ روپئے ہوگی۔ یہاں ہر سال شادی کے موقع پر اور اس سے پہلے لڑکیوں کو آراستہ کرنے کے لئے ایک ارب پچاس کروڑ روپیہ کا سونا اور چاندی زیورات میں منتقل کیا جاتا ہے، اگر ہندستان میں موجود تمام زیورات کا اندازہ پچاس ارب روپیہ کیا جائے تو ان کی سالانہ زکوٰۃ ایک ارب پچیس کروڑ ہوگی۔ اس طرح صرف تین مد کی زکوٰۃ سالانہ پانچ ارب اٹھائیس کروڑ پچاس لاکھ ہوتی ہے۔ اور اگر بقیہ مدوں کی زکوٰۃ بھی ایک ارب روپیہ فرض کر لی جائے جو درحقیقت بہت کم اندازہ ہے، تو صرف زکوٰۃ کی مد سے ساڑھے تین کروڑ افراد کے گزارہ کے لئے پندرہ روپیہ ماہوار دیے سکتے ہیں۔ یعنی اس طرح کے چار افراد کے خاندان کے لیے ساٹھ روپئےلیہ اس طرح زکوٰۃ کا یہ قانون ایک طرف دولت کے سمٹا ؤ کو روکتا ہے اور دوسری طرف ملک کے ان لوگوں کے لیے نہایت وسیع پیمانہ پر انشورنس کا انتظام کرتا ہے جو ازکار رفتہ ہو گئے ہوں۔ یا کسی وجہ سے معاشی دوڑ میں اپنا حصہ پانے میں ناکام رہے ہوں۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ ضرورت مندوں کے لیے اس انتظام کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی مد سے جتنا روپیہ وصول ہو اس کو متعین اشخاص کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader