سوشلزم اور اسلام
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
تقسیم کردیا جائے ۔ بلکہ اسلامی حکومت قانونی طور پر اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اس کی مملکت میں جو شخص بھی ناگزیر انسانی ضروریات سے محروم ہو وہ اس کی ضرورت پوری کرے اور اس فنڈ کی فراہمی میں زکوٰۃ کا قانون سب سے زیادہ اہم حصہ ادا کرتا ہے۔ اگر زکوٰۃ کے مدرسے وصول شدہ رقم اس کے لیے کافی نہ ہو تو اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ دوسری مدوں سے اس کمی کو پورا کرے۔ بے روزگاری آخری سوال بے روزگاری سے متعلق ہے، جس نے صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں ایک عظیم مسئلہ کی حیثیت اختیار کرلی ہے ۔ پہلے یہ تھا کہ ایک کروڑ آدمی جس کپڑے کو پہنتے تھے ، اس کو کئی لاکھ آدمی بنتے تھے مگر آج ایک کروڑ آدمی کی ضرورت کے کپڑے صرف چند ہزار آدمی تیار کرلیتے ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار کروڑوں آدمی اس عجیب وغریب صورت حال سے دوچار ہیں کہ وہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں کام نہیں ملتا۔ مشینوں نے ان کے اپنے کرگھے اور بھٹیاں ختم کردی ہیں، اور اب وہ کام حاصل کرنے کے لیے جس کارخانہ کی طرف بھی رجوع کرتے ہیں۔ کلوں کی گڑگڑاہٹ دور ہی سے انھیں بتا دیتی ہے کہ مشینی دیو کی خدمت گزاری نے اب انسانی محنت کی ضرورت باقی رہنے نہیں دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان نے جو مشینین ایجاد کی ہیں کیا یہ اس کی غلطی تھی اور اس کو دوبارہ پتھر کے زمانہ کی طرف واپس جانا چاہئے ۔ یہ وقت کا اہم ترین سوال ہے جس کا کوئی حل ابھی تک دنیا دریافت نہیں کرسکی ہے ۔ ہندوستان میں اس مسئلہ کا یہ حل سوچا جارہا ہے کہ گھریلو صنعتوں کو رواج دیا جائے ۔ مگر موجودہ صورتِ حال میں بڑے بڑے کارخانوں کے ساتھ گھریلو صنعتوں کی بات بالکل بے معنی ہے ۔ بڑے کارخانوں میں جو چیزیں تیار ہوں گی، ان کا مقابلہ بہر حال گھریلو صنعتیں نہیں کر سکتیں ۔ ہاتھ کے ذریعہ بنی ہوئی چیزیں یقیناً مشینوں سے بنی ہوئی چیزوں کے مقابلہ میں گھٹیا ہوں گی اور مہنگی بھی پڑیں گی۔ پھر کون انھیں خریدے گا۔ ہندوستان میں جو گھر یلو صنعتیں ابھی تک زندہ ہیں ان کی زندگی صرف اس لیے ہے کہ ابھی تک مشینین ان کے حدود میں داخل نہیں ہوئی ہیں اور ان کو وہ مقابلہ سر سے سے پیش ہی نہیں آیا ہے جس سے شکست کھا کر دستکاریاں ختم ہوچکی ہیں۔ اس وقت صرف ایک ہی گھر یلو صنعت ہے جو بھاری مشینوں کی موجودگی میں کسی قدر کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے اور وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader