Urdu book · سوشلزم اور اسلام

بے روزگاری

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

چرکھے کی صنعت ہے۔ مگر اس کی کامیابی کی وجہ دوسری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کھادی کے بنے ہوئے کپڑے مل کے کپڑوں کے مقابلے میں مہنگے پڑتے ہیں۔ مگر ان کو سیاسی پارٹیوں کے افراد محض اس لیے خرید کر پہنتے ہیں کہ وہ ان کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔ عام لوگ اسے بہت کم خریدتے ہیں۔ اگر کھادی کی یہ حیثیت ختم ہو جائے تو وہ ملوں کے مقابلے میں ایک دن بھی نہ چل سکے گی۔ ہمارے نزدیک بے روزگاری پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ موجودہ معاشی نظام نے عوام کو قوت خریداری سے محروم کر دیا ہے۔ روزگار حقیقت میں ان چیزوں کی فراہمی میں لگنے کا نام ہے جن کی انسان کو ضرورت ہے۔ جب ایک شخص ضرورت کا کوئی سامان تیار کرتا ہے یا اس کی تقسیم کے کسی شعبہ میں کام کرتا ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ سوسائٹی کی ایک ضرورت پوری کر رہا ہے، بلکہ ٹھیک اسی کے ساتھ وہ خود باکار ہو کر اپنے اور گھر والوں کے لیے روزی بھی حاصل کرتا ہے۔ اس طرح روزگار کا سوال حقیقت میں لین دین کا سوال بن جاتا ہے۔ کسی ملک میں اگر بے روزگار لوگ موجود ہوں تو ان کی بے کاری کا سبب اور علاج معلوم کرنے کے لیے یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہاں پیدائش اور موت کی شرح کیا ہے تاکہ اگر پیدا ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں سے زیادہ ہو تو پیدائش کی شرح گھٹا کر موت کی شرح بڑھا دی جائے۔ بے روزگاری کا علاج معلوم کرنے کے لیے اصل میں جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ کہ ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں یا نہیں جن کو ضروریات زندگی نہ پہنچ رہی ہوں۔ اگر ایسے لوگ موجود ہوں اور ملک میں ایسے وسائل بھی موجود ہوں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو بے روزگار ہونے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت مند اشخاص کی موجودگی دوسرے لفظوں میں خریداروں کی موجودگی ہے۔ جو بے روزگاری کی اصل بنیاد ہے۔ ایسی صورت میں کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ برتھ کنٹرول کی اسکیم چلائی جائے بلکہ اصل کام یہ ہے کہ ایسی تدبیریں سوچی جائیں جن سے ضرورت مند لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے کے قابل ہو جائیں۔ جب خریداری بڑھے گی تو چیزوں کی مانگ پیدا ہوگی اور چیزوں کی مانگ پیدا ہوگی تو نئے نئے ادارے اور نئے کارخانے کھلیں گے جن میں بے روزگار لوگ کھپتے چلے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page