بے روزگاری
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی ضرورتیں انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جس کو ہم "کھانا" کہتے ہیں، اس سلسلہ میں آدمی کو اناج، پھل، ترکاریاں، گوشت، دودھ اور شکر وغیرہ کی ضرورت ہے۔ دوسری ضرورت وہ ہے جو تمدن زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔ مثلاً کپڑا، جوتا، مکان، گھڑی، تسلم، کاغذ، سواریاں اور اسی قسم کی دوسری بہت سی چیزیں۔ قدرت نے ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے زمین کے اندر اور باہر بے شمار قسم کی چیزیں پیدا کی ہیں۔ جہاں تک اہمیت کا سوال ہے، یہ واقعہ ہے کہ کھانا انسان کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے بغیر سرے سے زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مقدار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دوسری ضروریات کھانے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں۔ کھانے کے سلسلے میں جن چیزوں کی ضرورت ہے اگر ہم چاہیں تو انگلیوں پر ان کی فہرست گن سکتے ہیں۔ مگر تمدن زندگی گزارنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کو شمار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اب اگر آپ دنیا کی حالت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ کھانے کی ضرورت تو آدمی کسی نہ کسی طرح پوری کر رہا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ سرے سے زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر دوسری ضروریات سے نوے فیصد آدمی ابھی تک محروم ہیں۔ لوگوں کے پاس اگر روپیہ ہو تو ان کو سیکڑوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ مگر روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ خرید نہیں سکتے۔ اور مجبورا نہایت مختصر سامان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ مثلاً ہندوستان کو لیجیے۔ یہاں اس وقت تقریباً گیارہ کروڑ خاندان رہتے ہیں جن میں بیشتر نہایت تنگ اور کچے مکانوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سب لوگ یقیناً پختہ مکانوں میں رہنا چاہتے ہیں جن کے لیے کروڑوں کی تعداد میں مکان بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ تعمیر شروع ہو جائے تو بہت بڑی تعداد میں اینٹ، سیمنٹ، لوہا، لکڑی وغیرہ درکار ہوگا۔ جس کی تعمیر اور فراہمی سے لاکھوں انسان باروزگار ہو سکتے ہیں، مگر یہ کام اس لیے نہیں ہوتا کہ لوگوں کے پاس مکان بنانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ کپڑا انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی تمام ملیں اس وقت جتنا کپڑا تیار کرتی ہیں وہ یہاں کی آبادی میں تقسیم کیا جائے تو ایک شخص کے حصہ میں سالانہ چودہ گز کپڑا آتا ہے۔ اور ملوں کے اندر ملازمت سے جو لوگ روزی حاصل کر رہے ہیں ان کی تعداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader