بے روزگاری
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
دس لاکھ ہے۔ مگر قوتِ خریداری کی کمی کے باعث موجودہ پیداوار بھی پوری ہندستان میں نہیں کھپتی، اور سالانہ ساڑھے تین کروڑ گز کپڑا دوسرے ملکوں میں فروخت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر آپ ضرورت کے لحاظ سے دیکھیں تو ایک اوسط درجہ کے آدمی کو اپنے کپڑے بستر اور دوسری ضرورتوں کے لیے سال میں پچاس گز کپڑے کی ضرورت ہے۔ اس طرح اگر عوام کی قوتِ خریداری بڑھ جائے تو موجودہ مقدار کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ کپڑا تیار کرنا پڑے گا، جس سے مزدوری، ملازمت اور دوکانداری کے ذریعہ بہت سے آدمی باروزگار ہو سکتے ہیں۔ سائییکل موجودہ زمانہ کی سب سے سستی اور کارآمد سواری ہے جس کی ضرورت تقریباً ہر شخص کے لیے ہے۔ ہندستان میں اس وقت جتنی سائییکلیں بن رہی ہیں ان کی تعداد سالانہ ساڑھے پانچ لاکھ ہے۔ مگر یہ تعداد بھی یہاں مشکل سے فروخت ہوتی ہے۔ جب کہ ہندستان کی آبادی ۳۷ کروڑ سے زیادہ ہے۔ اور ہر سال ۵۵ لاکھ نئے انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہر ضرورت مند شخص خریدنے کے قابل ہو جائے تو کروڑوں کی تعداد میں مزید سائییکلوں کی مانگ پیدا ہو جائے گی۔ جس کی تیاری اور فروخت میں لاکھوں آدمی روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ سلائی کی مشین ایک ایسی چیز ہے جو ہر گھر میں ہونی چاہئے۔ مگر پہلے پنج سالہ پلان کے خاتمہ پر ہندستان میں مشینوں کی پیداوار سالانہ صرف ۴۲ ہزار ہے۔ اور وہ بھی پوری فروخت نہیں ہوتی۔ اگر لوگوں کے پاس پیسے ہوں تو اس کے بنانے اور بیچنے کے لئے سیکڑوں ہزاروں نئی نئی دکانیں اور کارخانے کھل جائیں گے جن سے بے شمار لوگ اپنی روزی حاصل کر سکتے ہیں دوا علاج ہر شخص کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر حالت یہ ہے کہ ہندستان میں ہر چھ ہزار تین سو آدمی پر ایک ڈاکٹر ہے ساڑھے ہزار عورتوں کے درمیان صرف ایک دائی اور ۲۳ ہزار کے درمیان صرف ایک نرس ہے۔ دانت کے ڈاکٹر اور بھی کم ہیں۔ جن کا اوست تین لاکھ اشخاص کے درمیان ایک ہے۔ دوا بنانے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ چالیس لاکھ آبادی کے درمیان ان کی تعداد صرف ایک ہوتی ہے۔ ایسا محض اس لیے ہے کہ لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ ڈاکٹر کی فیس اور دوا کی قیمت دے سکیں۔ اگر لوگوں کے پاس پیسے ہو جائیں تو بہت بڑی تعداد میں دواؤں اور ڈاکٹروں کی مانگ پیدا ہو جائے گی جس میں بے شمار آدمی باروزگار ہو سکتے ہیں۔ ہندستان میں اکیس عدد کا غذ بنانے کے کارخانے ہیں جن میں ۲۶ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ اور سالانہ دو لاکھ ستاسی ہزار ایک سو دس ٹن کا غذ تیار ہوتا ہے ۔ یہ مقدار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader