Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حصہ اول تمہید

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

اور جو لوگ فطرت کو اصل شمار کرتے ہیں وہ مادیت پسند (Materialist) ہیں ۔ ان دونوں کی مختلف شاخیں ہیں ۔“ ۵ مارکس کا یہ کہنا کہ اس نے تاریخ کو سائنس کی صورت دی ہے ، دراصل اسی سوال کا ایک جواب ہے۔ مارکس نے اس مسئلہ پر غور کیا کہ ہمارا موجودہ سماج اس حالت پر کیوں کر پہنچ گیا۔ اس میں تبدیلی کیوں ہوتی رہتی ہے اور آئندہ اس میں کس قسم کی تبدیلی کا امکان ہے۔ وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ جس طرح بیرونی دنیا کے واقعات اتفاقی طور پر نہیں ہوتے، اسی طرح سماج میں بھی کوئی تبدیلی محض اتفاق سے نہیں ہو جاتی۔ اس کے پیچھے خاص اصول کارفرما ہوتے ہیں ۔ جس طرح نیوٹن اور آئن سٹائن نے کائنات کی حرکت کے قوانین معلوم کرنے کی کوشش کی اور اس کے اصول مرتب کئے ۔ اسی طرح مارکس نے تاریخ انسانی کا مطالعہ کرکے وہ ”سائنٹفک اصول“ دریافت کئے جو سماج کی تبدیلیوں میں کام کرتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ ہماری سوسائٹی میں جو تبدیلی ہوتی رہتی ہے وہ چند خاص اصولوں اور قوانین کی پابند ہے ٹھیک اسی طرح جیسے کائنات کی دوسری چیزیں خاص قوانین کی پابند ہیں ۔ یہ دونوں قانون ایک ہی نوعیت کے ہوتے ہیں ۔ یہ قوانین جو ہمارے اطراف کی ساری کائنات اور ہماری سوسائٹی دونوں پر یکساں حیثیت سے صادق آتے ہیں انھیں کا نام مارکسی فلسفہ یا کائنات کا مارکسی نقطہ نظر ہے۔ دوسرے لفظوں میں مارکس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ عالم مادی اور عالم انسانی دونوں ایک ہی قسم کے قانون کے پابند ہیں ۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں :۔ ”تمام نیچر ایک ہے ، اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے سائنس کا اسلوب بھی ایک ہے ، اب اس اسلوب کو خواہ چٹانوں کو سمجھنے کے لئے استعمال کیا جائے ۔ خواہ بیکٹروں اور بل ملکوں کی دنیا پر اسے چسپاں کیا جائے ۔ مارکس اور اینجلس کی عظمت کا راز یہ ہے کہ انھوں نے سائنس کے اس بنیادی اسلوب کو انسانی سماج پر بھی اسی طرح منطبق کیا جس طرح ان سے پیشتر یہ جمادات نباتات وغیرہ پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے تاریخی واقعات اقتصادی مواد اور فلسفیانہ نظریوں کو جو تاریخ کے دامن میں صد ہا سال سے جمع ہوتے جا رہے تھے ، ٹھیک طرح مرتب کیا۔ تولا، کلیے‘ قائم کئے اور انسان کے باہمی تعلقات کے ان تمام قوانین کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page