Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سوشلزم اور اسلام

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے ہیں۔ تخمینے کے مطابق ہمارے پاس کل ڈھائی سو ملین ٹن باکسائٹ ہے جس میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ ٹن اعلیٰ قسم کا ہے۔ اسی طرح ہمارے پہاڑی علاقوں میں تانبہ، سیسہ زنگ، اور ٹن کے ذخیرے موجود ہیں۔ میگنی سائٹ (Magnesite) ابرک، کھیریا مٹی اور گندھک وغیرہ ضرورت کی تمام چیزیں کھود کر نکالی جاسکتی ہیں۔ مگر یہ سارے خزانے ہمارے قدموں کے نیچے دفن پڑے ہیں۔ اور اس کے اوپر ہم اس حال میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ہمارے پاس نہ رہنے کے لئے مکان ہے، نہ پہننے کے لئے کپڑا، نہ ضرورت کے دوسرے سامان لیے۔ مصنوعی مسئلہ اوپر جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ افلاس اور بے روزگاری کا سوال در حقیقت ایک مصنوعی سوال ہے۔ اور صرف غلط معاشی انتظام کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس وسیع زمین پر وہ سب کچھ موجود ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ وہ مواقع بھی موجود ہیں جن میں لگ کر آدمی اپنے لیے روزگار فراہم کر سکتا ہے۔ اور وہ امکانات بھی پوری طرح موجود ہیں جن کے بروئے کار آنے سے ہر طرف سرسبزی اور خوش حالی پھیل جائے گی مگر سارا سوال اگر رک گیا ہے کہ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ اور پیسہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا بہاؤ تمام تر اوپر کے طبقوں اور سرمایہ داروں کی طرف ہو گیا ہے۔ بیشتر لوگوں کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس ناگزیر ضروریات خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں اور تھوڑے سے لوگوں کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس ہر طرف سے کھنچ کھنچ کر اتنی دولت جمع ہو رہی ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دولت کو کہاں خرچ کریں۔ کچھ لوگوں کو یہ مواقع حاصل ہیں کہ صرف ایک مرتبہ کی ہاتھ کی صفائی سے وہ دو دو کروڑ روپیہ حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ چند روپیہ ماہوار کی ملازمت کے لیے مہینوں چکر لگاتے رہتے ہیں اور کامیابی نہیں ہوتی۔ اوپر کی معلومات پلاننگ کمیشن کے پہلے پنج سالہ پلان سے لی گئی ہیں۔ ۷۲ یہاں اس مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں سیٹھ رام کرشن ڈالمیا نے بھارت انشورنس کمپنی کے سرکاری تمسکات سے دو کروڑ ۲۲ لاکھ روپئے خورد برد کے ذریعہ حاصل کر لیے اور اسکوسٹ بازی میں خرچ کر دیا، جس کے بعد وزارت مالیات کے ڈپٹی سکریٹری مشرکول کی اطلاع پر حکومت ہند کی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ نے ۲۵ ستمبر ۱۹۵۵ء کو انھیں نئی دہلی میں ان کے مکان میں گرفتار کر لیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page