مصنوعی مسئلہ
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا علاج یہی ہے کہ دولت کی گردش کو عام کیا جائے جس کے طریقے ہم نہایت تفصیل کے ساتھ اوپر بیان کر چکے ہیں۔ اگر ملازمین کی تنخواہوں کے اس فرق کو مٹا دیا جائے کہ کچھ لوگوں کو اتنا زیادہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تجوریوں میں رکھنے کے سوا کوئی مصرف نہیں پاتے۔ اور کچھ لوگوں کو اتنا کم ملتا ہے کہ ان کی اور ان کے گھر والوں کی ابتدائی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں۔ سود اور جُوے کی تمام شکلوں کو قانوناً بند کر دیا جائے جس نے دولت کے بہاؤ کو عوام سے خواص کی طرف کر دیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا جائے جو در حقیقت ایک مہذب ڈاکو ہے۔ تجارت کی ان تمام شکلوں کو بالکل مٹا دیا جائے جن میں چند چالاک لوگ پر فریب تماشے دکھا کر یا کسی چیز کا چسکا ڈال کر عوام کو لوٹتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد سوشل انشورنس کا ایک ہمہ گیر نظام قائم کیا جائے جس کے تحت ہر اس شخص کی لازمی امداد کی جائے جو کسی وجہ سے قوت خرید سے محروم ہو گیا ہو۔ اس طرح معاشیات کی گاڑی ایک مرتبہ چلا دی جائے جس کے متعلق ہم تفصیل سے اوپر لکھ چکے ہیں تو ہر طرف خوش حالی پھوٹ پڑے گی اور کوئی شخص بھی زمین پر محتاج اور بے روزگار باقی نہیں رہے گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جو بڑی بڑی مشینیں تیار ہوئی ہیں انھوں نے انسانی محنت کی ضرورت بہت کم کر دی ہے۔ پھر مشین کی کار کردگی کے مقابلہ میں روزگار کا تناسب کس طرح باقی رکھا جائے گا۔ میرا جواب یہ ہے کہ مشینوں کی ایجاد نے آدمیوں کی ضرورت ختم نہیں کی ہے۔ نہ آئندہ کبھی ایسا ہونے کی امید ہے۔ جو کچھ ہوا ہے وہ صرف یہ کہ محنت کے بڑے بڑے کام جو پہلے بہت سے آدمی مل کر زیادہ وقت میں کیا کرتے تھے، اس کو مشینیں کم وقت میں انجام دینے لگیں۔ مگر مشینوں کی رہنمائی اور دیکھ بھال کے لیے اب بھی انسانوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں ہے کہ مشینوں کی ایجاد کے بعد انسانوں کے لیے کرنے کا کوئی کام باقی نہیں رہا۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ مشینوں پر کام کرنے کے لیے کتنے آدمی لگائے جائیں۔ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہ ہے کہ وہ تمام لوگ کام پر لگائے جائیں جن کے روزگار کو کوئی مشین متاثر کر رہی ہو۔ مزدور ہو یا کار خانہ دار سب کے لیے آمدنی کا ذریعہ وہ باہمی لین دین ہے جس کے تحت ایک آدمی ضرورت کا کوئی سامان تیار کر کے بیچتا ہے اور دوسرا آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader