مصنوعی مسئلہ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی ضرورت کے لیے اسے خریدتا ہے۔ ایک بستی جہاں کسی صنعت سے ایک ہزار آدمی روزی کما رہے تھے اس کے معنی در حقیقت یہ تھے کہ بستی کے اندر اس قسم کے سامان کی جتنی کھیپ ہے وہ ایک ہزار انسانوں کی کفالت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پھر یہی کام جب مشینوں مدد سے لیا جائے گا تو بستی کی خریداری کی صلاحیت جو ایک ہزار انسانوں کے درمیان پھیلی ہوئی تھی کیوں صرف چند آدمیوں کے حوالہ کر دی جائے۔ جس طرح زراعت میں کھیت سے غلہ اگتا ہے اسی طرح عوام صنعت و تجارت کی کھیتیاں ہیں جو مصنوعات کو خرید کر اس کو منافع کی شکل دیتے ہیں۔ اگر یہ عوام نہ ہوں تو کوئی کارخانہ دار پہاڑوں اور جنگلوں میں اپنی مصنوعات کی نکاسی نہیں کر سکتا۔ کیا سرمایہ دار کو محض سرمایہ کا مالک ہونے کی بنا پر یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ انھیں روزگار سے محروم کر کے صرف اپنا گاہک بنالے اور خریداری کی وہ صلاحیت جو ہزاروں آدمیوں کے درمیان گردش کر رہی تھی اور سب کی خوش حالی کا سبب بنی ہوئی تھی اس پر اجارہ داری حاصل کر کے سارا منافع صرف اپنے لیے سمیٹ لے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ کارخانہ کے اندر مزدوروں کی تعداد کا تعین کارخانہ دار کا کام نہیں ہے، یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ دیکھے کہ مشین کتنے آدمیوں کو متاثر کر رہی ہیں اور پھر مشینیں لگانے والوں کو بذریعہ قانون مجبور کرے کہ وہ اس پوری تعداد کو اپنے کارخانوں کے اندر کھپائیں جن کے روزگار کو چھین کر وہ انھیں صرف خریدار کی صورت میں باقی رکھنا چاہتے تھے۔ اور اس کی عملی شکل یہ ہے کہ اوقات کار میں اسی کے بقدر کمی کر دی جائے جتنے آدمیوں کو اپنی چھینی ہوئی روزی کو واپس لینے کے لیے کارخانہ میں ملازمت کرنے کی ضرورت ہو۔ انیسویں صدی کے آخر تک ہندستان میں مزدوروں کے لیے کوئی قانون نہیں تھا۔ پہلا فیکٹری ایکٹ ۱۸۸۱ء میں پاس ہوا۔ اس وقت کام کے اوقات مقرر نہیں کئے گئے تھے۔ کارخانوں کے مالک سولہ سولہ گھنٹے تک مزدوروں کو مصروف رکھتے تھے اور جو اجرت چاہتے تھے دیتے تھے ۱۸۸۹ء میں ایک فیکٹری کمیشن مقرر کیا گیا جس کی سفارشات کے مطابق ۱۸۹۱ء میں ایک نیا فیکٹری ایکٹ پاس ہوا جس میں صرف عدالتوں کے لیے گیارہ گھنٹے کام کا وقت مقرر کیا گیا اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں فری سمتھ کمیٹی مزدوروں کے حالات کی جانچ کے لئے مقرر کی گئی جس نے بڑے بحث مباحثہ کے بعد یہ طے کیا کہ مزدوروں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader